(فتویٰ نمبر: ۲۳۸)
سوال:
عزل کے سلسلے میں معلوم کیے گئے سوالات کے نہ صرف جوابات دیے، بلکہ کافی مدلل اور سیر حاصل بحث آپ نے فرمائی ہے، اس کے لیے ہم آپ کے ممنون ومشکور ہیں، اسی سلسلے میں کچھ اور نکات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
۱-عزل کی اجازت کے سلسلے میں مختلف خطرات اور صحت کے سلسلے میں ضروریات اور حالات کا آپ نے تذکرہ کیا ہے، تو آیا یہ خطرات اور حالات واندیشہ کسی مستند ڈاکٹر کی طرف سے ہونا ضروری ہے؟ یا والدین خود ان حالات (جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے) کے سلسلے میں فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں؟
۲-اب مارکیٹ میں ایسے کنڈوم (Condom)کی کوالیٹی (Quality)موجود ہے جو ۱۰۰/ فی صد تحفظ کی ضمانت فراہم کرتے ہیں، جب کہ یہ ضمانت عزل میں نہیں ہے، تو عزل کا بد ل کنڈوم (Condom) کیسے ہوسکتا ہے؟
۳-نفخِ رُوح سے پہلے اِسقاط جائز ہے، تو حدیث کی رُو سے ”نفخِ روح“ کی مدت کیا ہے؟
۴طبی لحاظ سے ماہرین کی رائے میں ایسی عورت کے لیے، جس کے تین بچے آپریشن سے ہوچکے ہوں، مزید کا خطرہ لینا صحیح نہیں ہے، تو کیا تین بچوں کے بعد مکمل طور پر تولیدی سلسلے کو بند کرانا صحیح ہے، اور اگر کسی شخص نے ماہر ین کی رائے پر (جان کر یا لا علمی میں)عمل کر ہی لیا ہے، تو پھر کیا حکم ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-عورت کو لا حق خطرات وحالات کا اندیشہ کسی مجرب، مسلم ڈاکٹر کی اطلاع سے ہونا چاہیے، اِلا یہ کہ والدین یا عورت خود مجرب وماہر ہوں، تو وہ بھی اس کے مجاز ہوسکتے ہیں، کیوں کہ ان میں بھی وہ علت موجود ہے جو ڈاکٹروں میں ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ اور ڈاکٹروں سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ آدمی اپنے حق میں تخفیف پر متہم ہوسکتا ہے۔(۱)
۲-شریعتِ اسلامیہ نے جن صورتوں میں عزل کی اجازت دی ہے، وہ امکانِ استقرار کی قید کے ساتھ مقید نہیں ہے، بلکہ مطلق ہے، یعنی اس میں امکانِ استقرار وعدمِ استقرار کی کوئی تفصیل نہیں ہے، اور ” اَلْمُطْلَقُ یَجْرِيْ عَلٰی إِطْلاقِه “(۲) کی رُو سے عزل کی جس صورت میں امکانِ استقرار ہے اور جس صورت میں امکانِ استقر ار نہیں دونوں کو شامل ہے، نیز عزل کی اجازت درحقیقت عدمِ تحصیلِ ولد کی اجازت ہے، اور اس اجازت کو امکانِ استقرار کی شرط کے ساتھ مشروط کرنا معقول بھی نہیں ہے۔
رہے حدیثِ پاک کے یہ الفاظ: ” مَا مِنْ نسْمَةٍ کاَئِنَةٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ إِلاَّ وَهيَ کَائِنَةٌ “ (جو جان بھی قیامت تک آنے والی ہے وہ آکر ہی رہے گی) _اذنِ عزل کے لیے بمنزلہٴ شرط نہیں، کہ عزل کی جس صورت میں امکانِ استقرارہو اس کی اجازت ہوگی اور جس میں یہ امکان نہ ہو اس کی اجازت نہیں ہے، بلکہ ان الفاظ میں قضا وقدر کی جانب اشارہ ہے کہ جس روح کا قیامت تک پیدا ہونا مقدر ہوچکا ہے ، وہ پیدا ہوکر رہے گی، خواہ اس کے لیے کوئی بھی مانع اختیار کیا جائے۔ (۳)
۳– حدیث کی رُو سے نفخِ روح کی مدت ایک سو بیس (۱۲۰) دن یعنی چار مہینے ہیں۔(۴)
۴-تولیدی سلسلے کو بالکلیہ بند کرانا (خواہ نس بندی کے ذریعے ہو یا آپریشن کے ذریعے) تغییر فی خلق اللہ میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ کسی چیز میں ایسی تبدیلی جس سے اس کی خلقت کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاوے ، تغییرِ خلق ہے۔(۵)
چنانچہ کتبِ فقہ میں اس کا حکم صراحةً مذکور ہے، کہ قوتِ تولید کو ضائع کردینا (خواہ نس بندی کے ذریعے ہو یا آپریشن کے ذریعے ) تعزیری جرم ہے، اور اس کا وہی تاوان ہے جو ایک پوری جان ہلاک کردینے کا ہے۔(۶)
اور اس قسم کا عمل جہاں دوسروں کے لیے موجبِ تعزیر ہے، وہیں خود اپنے لیے بھی جائز نہیں ہے، کہ جس طرح دوسرے کا قتل حرام ہے،ایسے ہی خودکشی بھی حرام ہے، اور خود کشی کی حرمت قتلِ غیر کی حرمت سے اشدّ ہے۔(۷)
لیکن اگر کسی نے دانستہ یا نادانستہ طور پر، یا ماہرین اطبا کی رائے پر عمل کرتے ہوئے تولیدی سلسلے کو (چاہے نس بندی یا آپریشن کے ذریعے ہو) بالکلیہ بندکرادیا ہے، تو اب اس پر لازم ہے کہ وہ توبہ واستغفار کرے۔(۸)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأکل المیتة للتداوي إذا أخبره طبیب مسلم أن شفاء ه فیه ۔ اه ۔
(۳۵۵/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب الثامن عشر في التدواي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد ، ط : مکتبه زکریا سهارنفور دیوبند)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لکن قد علمت أن قول الأطباء لا یحصل به العلم ، والظاهر أن التجربة یحصل بها غلبة الظن دون الیقین إلا أن یریدوا بالعلم غلبة الظن ، وهو شائع في کلامهم ۔ تأمل ۔(۳۶۵/۱ ، کتاب الطهارة ، باب المیاه ، مطلب في التداوي بالمحرم)
(۲) (قواعد الفقه :ص/۱۲۴ ، رقم القاعدة : ۳۳۱)
(۳) ما في ” شرح النووي علی هامش الصحیح لمسلم “ : قوله ﷺ : (لا علیکم أن لا تفعلوا ما کتب اللّٰه خلق نسمة هي کائنة إلی یوم القیامة إلا ستکون) ۔ معناه : ما علیکم ضرر في ترک العزل ؛ لأن کل نفس قدر اللّٰه تعالی خلقها لا بد أن یخلقها سواء عزلتم أم لا ۔ وما لم یقدر خلقها لا یقع سواء عزلتم أم لا ، فلا فائدة في عزلکم ، فإنه إن کان اللّٰه تعالی قدر خلقها سبقکم الماء ، فلا ینفع حرصکم في منع الخلق ۔
(۴۶۴/۱ ، کتاب النکاح ، باب العزل ، ط : قدیمي ، وکذا في تکملة فتح الملهم بشرح صحیح مسلم : ۶۰۲/۶ ، رقم : ۳۵۲۹ ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)
(فضل المعبود علی سنن أبي داود : ۳/ ۳۵۳ ، کتاب النکاح ، باب ما جاء في العزل)
ما في ” حجة اللّٰه البالغة “ : ونبه بقوله ﷺ : (ما علیکم أن لا تفعلوا) علی أن الحوادث مقدرة قبل وجودها ۔ وأن الشيء إذا قدر ولم یکن له في الأرض إلا سبب ضعیف ، فمن سنة اللّٰه عز وجل أن یبسط ذلک السبب الضعیف حتی یفید الفائدة التامة ، فالإنسان إذا قارب الإنزال وأراد أن ینزع ذکره کثیرًا ما یتقاطر من إحلیله قطرات تکفي في مادة ولده ، وهو لا یدري ، وهو سر قول عمر – رضي اللّٰه عنه – بإلحاق الولد بمن أقر أنه مسها لا یمنع من ذلک العزل ۔ (۲۳۴/۲ ، ۲۳۵ ، آداب المباشرة ، ط : دار المعرفة بیروت ، رحمة اللّٰه الواسعة : ۱۱۱/۵ ، ط : مکتبه حجاز دیوبند)
(۴) ما في ” عون المعبود “ : عبد اللّٰه بن مسعود قال : حدثنا رسول اللّٰه ﷺ وهو الصادق المصدوق : ” إن خلق أحدکم یجمع في بطن أمه أربعین یومًا ، ثم یکون مضغة مثل ذلک ، ثم یبعث اللّٰه إلیه ملکًا فیوٴمر بأربع کلمات فیکتب رزقه وأجله وعمله ، ثم یکتب شقي أو سعید ، ثم ینفخ فیه الروح “ ۔ اه ۔ متفق علیه ۔
(ص/۲۰۳۷ ، رقم : ۴۷۰۸ ، ط : بیت الأفکار الدولیة ، المعجم الأوسط للطبراني: ۴۶۷/۱ ، رقم : ۱۷۱۷ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت ، تفسیر المظهري : ۲۷۹/۶ ، سورة الموٴمنون)
وما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : ۔۔۔۔۔ وهذه الأطوار أربعة أشهر ، قال ابن عباس : وفي العشر بعد الأشهر الأربعة ینفخ فیه الروح ۔ اه ۔ فذلک عدة المتوفی عنها زوجها ۔ (۱۲/۶، سورة الحج)
(۵) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَآمُرَنَّهمْ فَلَیُغَیِّرُنَّّ خَلْقَ اللّٰه﴾ ۔ (سورة النساء: ۱۱۹)
(۶) ما في ” الفقه علی المذاهب الأربعة “ : تجب الدیة في إبطال قوة حبل من المرأة لفوات النسل ، وفي إبطال امرأة الحبل من الرجل ۔
(۳۴۱/۵ ، بحواله کتاب الفتاویٰ :۲۳۰/۶–۲۳۲)
ما في ” حجة اللّٰه البالغة “ : وکذلک جریان الرسم لقطع أعضاء النسل واستعمال الأدویة القامعة للباء ة والتبتل وغیرها تغییر لخلق اللّٰه وإحمال لطلب النسل ۔
(۲۳۴/۲ ، آداب المباشرة ، ط : دار المعرفة بیروت)
(۷) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ﴾ ۔ وقال تعالی : ﴿وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلَیْه نَارًا﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹ ، ۳۰)
(۸) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّه کَانَ غَفَّارًا﴾ ۔ (سورة نوح: ۱۰)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قوله تعالی : ﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ﴾ أي سلوه من ذنوبکم السالفة بإخلاص الإیمان ﴿ إِنَّه کَانَ غَفَّارًا﴾ وهذا منه ترغیب في التوبة ، وقد روی حذیفة بن الیمان عن النبي ﷺ أنه قال : ” الاستغفار ممحاة للذنوب “ ۔ (۳۰۱/۱۸ ، سورة نوح) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۳۰/۶/۱۷ھ
