مسئلہ:
جواز نکاح کا مقصد محض عورتوں کا حلال ہونا نہیں،بلکہ اس کے عظیم مقاصد میں سلسلہٴ توالد وتناسل کا قیامت تک جاری رہنا ہے، وہیں میاں بیوی کی عزت وعصمت اور بد نگاہی سے صیانت وحفاظت بھی ہے، نکاح کے یہ عظیم مقاصد اسی وقت حاصل ہوں گے جب کہ نکاح میں دوام وقرار ہو، اور دوام وقرار اسی وقت حاصل ہوگا جب کہ عورت مرد کے نگاہ میں معزز ومکرم ہو، اور یہ اس وقت ہو گا جب کہ عورت کا حصول ایسے مال کے عوض ہو جس کی خاطر خواہ عظمت ہو،(۱) اسی لئے شریعت نے نکاح میں مہر کو واجب قرار دیا ہے،(۲) زیادہ سے زیادہ مہر کی مقدار شریعت نے مقرر نہیں کی ، وہ میاں بیوی کی رائے پر موقوف ہے،(۳) جتنی مقدار بآسانی ادا کرسکے، اور لڑکی کے حالات کے مناسب بھی ہو، تجویز کرنا چاہیے، البتہ شریعت نے مہر کی کم سے کم مقدار کو متعین کیا ہے ، اور وہ دس درہم، یعنی ہمارے موجودہ وزن کے اعتبار سے ساڑھے تین تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہے،(۴) اس سے کم مہر رکھنا شرعاً درست نہیں ہے، آج ہمارا معاشرہ مہر کے سلسلے میں افراط وتفریط کا شکار ہے، کہیں مہر اس قدر زیادہ رکھا جاتا ہے کہ شوہر کیلئے اس کی ادائیگی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے،(۵) آخر کا ر وہ یا تو مہر معاف کرواتا ہے ، یا ادا کئے بغیر ہی مر جاتا ہے، اور کہیں مہر اس قدر کم رکھا جاتا ہے کہ وہ مہر کی کم سے کم مقدار شرعی کے برابر بھی نہیں ہوتا، اس لئے روپیوں میں مہر متعین کرتے وقت ساڑھے تین تولہ چاندی کی موجودہ قیمت معلوم کرکے ہی مہر مقرر کرنا چاہیے، امید کہ اس جانب خاص توجہ دی جائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” بدائع الصنائع “ : لأن ملک النکاح لم یشرع لعینه بل لمقاصد لا لحصول لها إلا بالدوام علی النکاح والقرار علیه، ولا یدوم إلا بوجوب ۔۔۔۔۔۔۔ المهر بنفیس العقد لما یجری بین الزوجین من الأسباب التی تحمل الزوج علی الطلاق من الوحشة والخشونة، فلو لم یجب المهر بنفس العقد لا یبالی الزوج عن إزالة هذا الملک بأدنی خشونة تحدث بینهما، لأنه لا یشق علیه إزالته لما لم یخف لزوم المهر فلا تحصل المقاصد المطلوبة من النکاح، ولأن مصالح النکاح ومقاصده لا تحصل إلا بالموافقة، ولا تحصل الموافقة إلا إذا کانت المرأة عزیزة مکرمة عند الزوج، ولا عزة إلا بانسداد طریق الوصول إلیها إلا بمال له خطر عنده۔(۴۸۵/۳، کتاب النکاح)
ما فی ” حجة الله البالغة “ : أقول: والیسر فیما سنن أنه ینبغی أن یکون المهر بما یتشاح به، ویکون له بال ینبغی ألا یکون مما یتعذر أداءه عادة بحسب ما علیه قومه، وهذا القدر نصاب صالح حسبما کان علیه الناس فی زمانه ﷺ، وکذلک أکثر الناس بعده اللهم إلا ناس أغنیاوٴهم بمنزلة الملوک علی الأسرة، وکان أهل الجاهلیة یظلمون النساء فی صدقاتهن بمطل أو نقص، فأنزل الله تعالی: ﴿واٰتوا النسآء صدقاتهنّ نحلة، فإن طبن لکم﴾ ۔ (۲۲۶/۲، صفة النکاح)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿قد علمنا ما فرضنا علیهم فی أزواجهم﴾۔(سورة الأحزاب:۵۰)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال قتادة: فرض أن لا ینکح امرأة إلا بولی وشاهدین وصداقٍ ۔ (۴۸۰/۳)
(۳) ما فی ” أصول الشاشی “ : قد علمنا ما فرضنا علیهم فی أزواجهم، خاص فی التقدیر الشرعی فلا یترک العمل به باعتبار أنه عقد مالی، فیعتبر بالعقود المالیة، فیکون تقدیر المال فیه موکولاً إلی رأی الزوجین۔ (ص:۵)
(۴) ما فی ” سنن الدار قطني “ : عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ” لا تنکحوا النساء إلا الأکفاء، ولا یزوجهن إلا الأولیاء، ولا مهر دون عشرة دراهم “۔
(۱۷۳/۳،کتاب النکاح، رقم الحدیث: ۳۵۵۹)
(۵) ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن عمر بن الخطاب قال: ” ألا تغالوا فی صدقة النساء، فإنها لو کانت مکرمة فی الدنیا وتقوی عند الله لکان أولٰکم بها نبی الله ﷺ “۔
(ص:۲۷۷، باب الصداق)
(فتاوی محمودیه: ۲۷۵/۱۷)
