مسئلہ:
نمازِ اوّابین نفل میں داخل ہے، اور نفل با جماعت بصورتِ تداعی یعنی نفل نماز کی جماعت کے لیے دعوت وترغیب دینا مکروہ ہے، لیکن اگر نفل نماز میں ایک شخص دوسرے کی اقتدا کرے، یا دو آدمی کسی تیسرے کی اقتدا کریں، تو بالاتفاق یہ مکروہ نہیں ہے، اور اگر تین آدمی کسی چوتھے کی اقتدا کریں، تو کراہت وعدمِ کراہت میں فقہاء کا اختلاف ہے، بعض اسے مکروہ گردانتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ مکروہ نہیں ہے، البتہ جب چار آدمی کسی پانچویں کی اقتدا کریں، تو بالاتفاق مکروہ ہے، اس لیے طلبا کے لیے حفظِ قرآن کی پختگی کے پیشِ نظر دو-دو کی جوڑی لگاکر اوّابین کا نظام بنانا شرعاً جائز ودرست ہونا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مراقي الفلاح “ : والجماعة في النفل في غیر التراویح مکروهة فالاحتیاط ترکها في الوتر خارج رمضان، وعن شمس الأئمة أن هذا فیما کان علی سبیل التداعي، أما لو اقتدی واحد بواحد، أو اثنان بواحد لا یکره، وإذ اقتدی ثلاثة بواحد اختلف فیه، وإن اقتدی أربعة بواحد کره اتفاقًا۔
(ص:۱۴۵، باب الوتر وأحکامه، خلاصة الفتاوی:۱۵۳/۱، کتاب الصلاة، الفصل الخامس عشر في الإمامة والاقتداء)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : یکره ذلک لو علی سبیل التداعي بأن یقتدی أربعة بواحد، کما في الدرر ۔ در ۔ وفي الشامیة: قوله: (علی سبیل التداعي) أما اقتدی واحد بواحد أو اثنین بواحد فلا یکره، وثلاثة فیه خلاف ۔ بحر عن الکافي۔ (۵۰۰/۲، باب الوتر والنفل)
ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : أما لو اقتدی واحد بواحد أو اثنان بواحد لا یکره، وإذا اقتدی ثلاثة بواحد ذکر هو رحمه الله أن فیه اختلاف المشایخ، قال بعضهم یکره، وقال بعضهم لا یکره، وإذا اقتدی أربع بواحد کره بلا خلاف۔ (۴۲۲/۱، کتاب صلاة التراویح، نوع آخر في المتفرقات)
(فتاویٰ محمودیہ: ۲۴۳/۷)
