(فتویٰ نمبر:۱۱۷)
سوال:
ہمارے گھر کے آنگن (صحن) میں دو بادام کے درخت موجود ہیں، اب وہ بڑے ہورہے ہیں، بعض لوگ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ یہ درخت گھر کے سامنے لگانا ٹھیک نہیں، جنات وغیرہ کا اثر جلدی ہوتا ہے، اور اس کا اثر آنے والی اولاد پر بھی ہوتا ہے۔
(۱)تو کیا لوگوں کا اس طرح کہنا صحیح ہے یا غلط؟
(۲) کیا ان درختوں کو تورڈالیں ؟
(۳) کیا لوگوں کا اس طرح کا عقیدہ رکھنا بدعت ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بادام کے درخت یا کسی اور درخت کے، آنگن (صحن) میں لگانے سے ”بد فالی“ اور ”بد شگونی “ لینا کہ ان پر جنا ت کا اثر رہتا ہے، اور پھر ان جنات کا اثر پیدا ہونے والے نومولود بچہ پر پڑ تا ہے، یہ بالکل غلط، لغو اور ایسا بے اصل عقید ہ ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں، بلکہ شریعت نے اس طرح ”بدفالی“ اور ”بد شگونی “ کو شرک قرار دیا ہے۔
البتہ رہا معاملہ جنات کا تو وہ بھی انسان کی طرح اللہ کی مخلوق ہیں، اسی زمین پر وہ بھی رہتے ہیں، ان کا اثر درختوں یاکسی اور چیز پر پڑ نا، پھر اس سے نو مولود اولاد کا متاثر ہونا یہ اوہام پرستی اور بدعقیدگی ہے، اس لیے اپنے آپ کو اس طرح کی اوہام پرستی سے بچانا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” السنن لأبي داود “ : وعن قطن بن قبیصة عن أبیه قال : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : ” العیافة والطیرة والطرق من الجبت “ ۔
(۵۴۵/۲ ، کتاب الطب ، باب الخط وزجر الطیر)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن عبد اللّٰه بن مسعود عن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” الطیر شرک “ ، قاله ثلاثا ، ” وما منا إلا ولکن اللّٰه یذهبه بالتوکل “ ۔
(ص/۳۹۲ ، کتاب الطب ، باب الفال والطیرة ، الفصل الثاني)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال الملا علي القاري رحمه اللّٰه : أي لاعتقادهم أن الطیرة تجلب لهم نفعًا أو تدفع عنهم ضرًّا ، فإذا عملوا بموجبها فکأنهم أشرکوا باللّٰه في ذلک ویسمی شرکاً خفیاً ، وقال شارح : یعني من اعتقد أن شیئًا سوی اللّٰه ینفع أو یضر بالاستقلال فقد أشرک أي شرکاً جلیًا ، وقال القاضي : إنما سماها شرکًا ؛ لأنهم کانوا یرون ما یتشاء مون به سببًا موٴثرًا في حصول المکروه ۔ انتهی ۔(۳۹۸/۸، کتاب الطب والرقی ، باب الفال والطیرة ، رقم : ۴۵۸۴)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : ” لا عدویٰ ولا صفر ولا غول “ ۔ رواه مسلم ۔
(ص/۳۹۲ ، کتاب الطب ، باب الفال والطیرة ، الفصل الأول)
ما في ” مرقاة المفاتیح “:قال الشیخ الملا علي القاري رحمه اللّٰه تعالی:إن الغول أحد الغیلان،وهي جنس من الجن والشیطان،کانت العرب تزعم أن الغول في الفلاة تتراء ی للناس أي فتتغول تغولاً أي تتلون في صور شتی، وتغولهم أي تضلهم عن الطریق وتهلکهم،فنفاه النبي ﷺ۔(۳۹۶/۸،کتاب الطب والرقی ، باب الفال والطیرة) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۲۱/۷/۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔ ۲۱/۷/۱۴۲۹ھ
