گیس ہیٹر سامنے رکھ کر نماز پڑھنا

مسئلہ:

بعض علاقے انتہائی سرد ہوتے ہیں، ان میں سردی سے بچنے کے لیے مختلف چیزیں استعمال کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک گیس ہیٹر بھی ہے، جو مکان، دکان اور مساجد وغیرہ میں نصب کیے جاتے ہیں، ان گیس ہیٹروں کی پلیٹوں پر انگاروں کی شکل بنی ہوتی ہے، جب ہیٹر جلتے ہیں تو وہ انگاروں کی طرح بھڑکتے نظر آتے ہیں، اس طرح کے ہیٹر سامنے رکھ کر نماز جائز تو ہے، مگر آتش پرستوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے ان کو اطرافِ مسجد یا سجدہ کی جگہ سے اونچا کرکے نصب کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” البحر الرائق “ : قوله: (أو شمع أو سراج) لأنهما لا یعبدان والکراهة باعتبارها، وإنما یعبدها المجوس إذا کانت في الکانون وفیها الجمر أو في التنور فلا یکره التوجه إلیها علی غیر هذا الوجه۔ (۵۶/۲ ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)

ما في ” السنن لأبي داود “ : عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: ” من تشبّه بقوم فهو منهم “۔ (ص:۵۵۹، کتاب اللباس)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (فهو منهم) أي في الإثم والخیر، قال الطیبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما کان الشعار أظهر في الشبه ذکر في هذا الباب، قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غیر۔ (۲۲۲/۸، کتاب اللباس)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۱۰۹۸)

اوپر تک سکرول کریں۔