مسئلہ:
فرائضِ خمسہ : کلمہ ، نماز،روزہ ،زکوٰة ،حج اور علمِ اخلاص کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ،کیوں کہ صحتِ عمل اسی پر مو قوف ہے ،اسی طرح علمِ حلال وحرام ،اور علمِ ریا ء کا حاصل کرنا بھی فرض ہے ،کیوں کہ عابد ریاء کے سبب اپنے عمل کے ثواب سے محروم ہوتا ہے ،علمِ حسد وعجب کا حاصل کرنا بھی فرض ہے ،کیوں کہ یہ دونوں چیزیں نیک عمل کو ایسے ہی کھا جاتی ہیں جیسے آگ لکڑی کو ،خریدوفروخت ،نکاح وطلاق کا علم اس شخص پرحاصل کرنا فرض ہے، جو ان امور میں داخل ہونا چاہتاہے ،اُن الفا ظ وکلمات کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے ،جس سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے(۱) ،ہم طلباء مدارسِ دینیہ اسی (فرض) علم کی تحصیل میں مشغول ہیں ،اس لئے ہر ایسا کام جو اگر چہ مباح ہو، مگر ہمارے اس مقصد ِعظیم میں مخل ہو، ہمارے لئے اس کا کرنا مکرو ہ ِتحریمی ہوگا ، مثلاً :بلا ضرورت موبائل کا استعمال، بازاروں میں فضول گھومنا پھرنا ،اور رات دیر گئے تک گپ بازی کرنا وغیرہ، کیوں کہ شریعت ِاسلامیہ ایسے مباح کام سے بھی منع کرتی ہے جو فرائض وواجبات کی ادائیگی میں مخل ہو، یا دین میں کسی خرابی کاذریعہ بنے ،فقہ اسلامی میں اس کی بے شمار نظیریں موجود ہیں،مثلا :
(۱) عام حالات میں خریدوفروخت مباح ہے ،مگر اذانِ جمعہ کے بعد اس میں مشغول ہونا مکروہِ تحریمی ہے ،کیوں کہ یہ ایک واجب ِشرعی یعنی اداء جمعہ میں مخل ہے۔
(۲)کسی بھی وقت نفل نماز پڑھنا مباح ہے، مگر تین اوقات میں مکروہِ تحریمی ہے ،کیوں کہ اس سے کافروں کے ساتھ مشابہتِ ظاہرہ لازم آتی ہے۔
(۳)خالق کی خلقت وصنعت کو دیکھنا اور اس میں غوروفکر کرنا گرچہ مباح ہے ، مگر جب غیر محرم سامنے ہو تو نظر کونیچے کرنا واجب ہے، کیوں کہ یہ امرِممنوع کے ارتکاب کا ذریعہ ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالیٰ : ﴿فلولا نفر من کل فرقة منهم طائفة لیتفقهوا في الدین﴾ ۔ (سورة التوبة :۱۲۲)
ما في ” سنن الکبری للبیهقي “ : قوله علیه السلام : ” طلب العلم فریضة علی کل مسلم “ ۔ (۲۵۴/۲ ، رقم الحدیث :۳۶۶۳ ، و۲۵۶/۲ ، رقم الحدیث :۱۶۷۲ ، مشکوٰة المصابیح : ص/۳۴ ، کتاب العلم ، الفصل الثاني)
ما في ” الشامیة “ : وفي تبیین المحارم : ” لا شک في فرضیة علم الفرائض الخمس ، وعلم الإخلاص ، لأن صحة العمل موقوفة علیه ؛ وعلم الحلال والحرام ؛ وعلم الریاء ، لأن العابد محروم من ثواب عمله بالریاء ؛ وعلم الحسد والعجب ؛ إذ هما یأکلان العمل کما تأکل النار الحطب ؛ وعلم البیع والشراء ، والنکاح والطلاق لمن أراد الدخول في هذه الأشیاء ؛ وعلم الألفاظ المحرمة أو المکفرة “ ۔ (۱۲۶/۱ ، المقدمة ، مطلب : في فرض الکفایة وفرض العین)
(۲) ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا ۔ (ص/۴۶)
ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود ۔ (۳/ ۱۷۵ ، فصل في سد الذرائع)
