ہیئر ڈائز کا استعمال کرنا

مسئلہ:

آج کل بہت سے فیشن پرست نوجوان لڑکے اورلڑکیاں ، بطور زینت مختلف قسم کے ہیئر ڈائز (ہائیڈروجن، کیمیکلس وغیرہ) بکثرت استعمال کرتے ہیں، اور اپنے بالوں کو رنگین اور کلر فل بناتے ہیں، اولاً تو یہ فیشن قابل ترک ہے، اور اگر خالص سیاہ خضاب ہے تو اس کا لگانا سخت گناہ ہے،(۱) سرخ مہندی کا خضاب لگایا جائے،(۲) لیکن اگر کسی نے ناجائز ہونے کے باوجود خالص سیاہ خضاب، یا اور کوئی مباح خضاب لگا لیا، اور وہ پانی یا مہندی کی طرح اتنا پتلا اور رقیق ہو کہ خشک ہونے کے بعد بالوں تک پانی پہنچنے کے لیے مانع نہ بنتا ہو، تو اس صورت میں وضو اور غسل صحیح ہوجائے گا،(۳) اور اگر وہ خضاب اتنا گاڑھا ہو کہ بالوں تک پانی نہیں پہنچتا، تو پھر وضو اور غسل صحیح نہ ہوگا ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” السنن لأبی داود “ : قال رسول الله ﷺ: ” یکون قوم یخضبون فی آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لا یریحون رائحة الجنة“۔

(ص:۵۷۸، الترجل ، باب ما جاء فی خضاب السواد، مشکوٰة المصابیح: ص:۳۸۳)

ما فی ” بذل المجهود “ : قال الشیخ خلیل أحمد السهارنفوري: وفی الحدیث تهدید شدید فی خضاب الشعر بالسواد، وهو مکروه کراهة تحریم۔

(۲۳۷/۱۲۔۲۳۸، رقم الحدیث: ۴۲۱۲، الترجل، مکتبة دار البشائر الإسلامیة بیروت)

(۲)ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر بن عبد الله قال: أتی بأبی قحافة یوم فتح مکةورأسه ولحیته کالثغامة بیاضاً، فقال رسول الله ﷺ: ” غیروا هذا بشيء واجتنبوا السواد “۔

(۱۹۹/۲،کتاب اللباس والزینة، باب استحباب خضاب الشیب بصفرة أوحمرة وتحریمه بالسواد، مشکوٰة المصابیح: ص:۸۰ ۳، باب الترجل، الفصل الأول)

ما فی ” شرح النووی علی هامش مسلم “ :”ومذهبنا استحباب خضاب الشیب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة، ویحرم خضابه بالسواد علی الأصح “۔ (۱۹۹/۲)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ” یستحب للرجل خضاب شعره ولحیته، ولو في غیر حرب في الأصح۔۔۔۔ ویکره بالسواد “۔ الدر المختار ۔

(ردالمحتار: ۶۰۴/۹، الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره، فصل في البیع)

(۱) ما فی ” الشامیة “ : قوله: (والأولیٰ غسله) اعلم أنه ذکر فی المنیة أنه لو أدخل یده فی الدهن النجس أو اختضبت المرأة بالحناء النجس ، أو صبغ بالصبغ النجس، ثم غسل کل ثلاثاً طهر۔(۵۳۷/۱، باب الأنجاس، مطلب فی حکم الصبغ والاختضاب بالصبغ أو الحناء النجسین، دار الکتب العلمیة بیروت)

(فتاوی رحیمیه: ۳۲.۳۳/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔