آٹا پیسنے کی اجرت آٹے کے ذریعہ ادا کرنا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں آٹا پیسنے کی اجرت روپیوں کی شکل میں لی جاتی ہے، اور یہی غالب ومروج ہے، مگر بعض علاقوں میں آج بھی آٹا پیسنے کی اجرت اجناس کی شکل میں لیجاتی ہے، مثلاً دس کلو گیہوں پیسنے کی اجرت آدھا کلو گیہوں ، شرعاً اس میں کوئی قباحت وکراہت نہیں ہے، البتہ اگر دس کلو گیہوں پسانے کی اجرت اسی پسے ہوئے آٹے میں سے آدھا کلو آٹا طے کیا جائے، تو یہ” حدیث قفیز طحان“ کے حکم میں داخل ہوکر اجارہٴ فاسدہوگا، جو شرعاً ممنوع ہے، اس صورت کے جواز کا یہ حیلہ ہوسکتا ہے کہ آٹا پسانے والا اپنے گیہوں کی طرف نسبت نہ کرتے ہوئے مطلق یوں کہے کہ اس دس کلو گیہوں کو پیس دو، میں آپ کو اس کی اجرت لا علی التعیین گیہوں کا آدھا کلو آٹا دوں گا، پھر آٹا پسانے کے بعد اسی پسے ہوئے آٹے میں سے دیدے تو یہ جائز ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” السنن الدار قطنی “ : عن أبی سعید الخدری قال: ” نهی عن عسب الفحل، وعن قفیز الطحان“ ۔

(۴۲/۳، رقم الحدیث :۲۹۶۶، کتاب البیوع، السنن الکبری للبیهقی: ۵۵۴/۵، رقم الحدیث:۱۰۵۴)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : استاجر بغلاً لیحمل طعامه ببعضه أو ثوراً لیطحن بره ببعض دقیقه فسدت فی الکل لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل فی ذلک نهیه ﷺ عن قفیز الطحان۔۔۔۔۔۔۔ والحیلة أن یفرز الأجر أولا، أو یسمی قفیزاً بلا تعیین ثم یعطیه قفیزاً منه فیجوز۔در مختار۔ قال العلامة ابن عابدین: قال الرملی: وبه علم بالأولی جواز ما یفعل فی دیارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شک فی جوازه ۔

(۶۸/۹ ، باب الإجارة الفاسدة، مطلب: تحریر مهم فی عدم جواز الاستئجار، الفتاوی الهندیة: ۴۴۴/۴، الفصل الثالث فی قفیز الطحان وما هو فی معناه، المبسوط للسرخسی:۹۳/۱۵، کتاب الإجارات، الاختیار لتعلیل المختار: ۳۱۹/۲، فصل فی إفساد الإجارة، الهدایة :۲۸۹/۳، باب الإجارة الفاسدة ، تبیین الحقائق :۱۲۹/۶)

(فتاوی محمودیه:۵۸۶/۱۶، فتاوی حقانیه:۲۶۹/۶، الأصل فی ذلک نهیه عن قفیز الطحان)

اوپر تک سکرول کریں۔