آیت یا حدیث لکھی ہوئی پاکٹ ڈائری یا کاغذ بیت الخلاء میں لے جانا

مسئلہ:

جیب میں ایسی ڈائری یاکاغذ ہو جس میں قرآن شریف کی آیت یا حدیث لکھی ہوئی ہو ،اور وہ مستور ہو، نظر نہ آتی ہو، تو اسی حالت میں بیت الخلاء میں یا کسی ناپاک جگہ میں جانا خلافِ اولیٰ ہے، اور اگر مستور نہ ہو، یعنی نظر آتی ہو، تو ایسی حالت میں جانا مکرو ہ تحریمی ہے، لہٰذا اس سے احتراز ضروری ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ’’ الهندیة ‘‘ : إذا کان علیه خاتم وعلیه شيء من القرآن مکتوب أو کتب علیه إسم اللّٰه فدخل المخرج معه یکره ۔ (۳۲۳/۵ ، الدر المختار مع الشامیة :۲۸۸/۱)

(جامع الفتاوی : ۴/ ۲۸۵، امداد الاحکام:۱۵۰/۱)

ما في ’’ المحیط البرهاني ‘‘ : المحدث لا یمس المصحف ولا الدرهم الذي کتب علیه القرآن لقوله تعالی:{لا یمسه إلا المطهرون} ۔

(۷۹/۱ ، الفصل الثاني وفیما یتصل بهذا الفصل، بیان أحکام المحدث)

اوپر تک سکرول کریں۔