مسئلہ:
آج کل ایک منکر(برائی)کو بہت زیادہ رواج دیا جارہا ہے ، اور وہ ہے صلیب (Red cross)کی علامت، استعمال کی چیزیں، خصوصاًچٹائیوں، چادروں، بستروں، مصلوں ، تولیوں، پتلون ،ٹی شرٹس ،برتنوں،چمچوں،قومی اورملکی جھنڈوں میں اس کی علامت کو اتنی مہارت کے ساتھ بنایا جاتاہے کہ وہ محسوس تک نہیں ہوپاتی، اور ہم اسے استعمال کرتے رہتے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ نے صلیب کوتوڑنے کا حکم فرمایا ہے، اس لیے ان چیزوں کو خریدتے وقت ہم پر واجب ہے کہ دھیان سے دیکھیں، کہ کہیں صلیب کی علامت تو نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وما قتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم﴾ ۔ (سورة النساء :۱۵۶)
ما في ” صحیح البخاري “ : عن عمران بن حطان ، عن عائشة ” حدثته : ” أن النبي ﷺ لم یکن یترک في بیته شیئًا فیه تصالیب إلا نقضه “ ۔(۸۸۰۲ ، کتاب اللباس ، باب نقض الصور ، ۱۷۳، رقم الحدیث :۵۹۵۳)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لا یجوز لمسلم أن یصنع صلیبا ، ولا یجوز له أن یأمر بصناعته ، والمراد صناعة ما یرمز به إلی التصلیب ، ولیس له اتخاذه ، وسواء علقه أو نصبه أو لم یعلقه ولم ینصبه ، ولا یجوز له إظهار هذا الشعار في طرق المسلمین وأماکنهم العامة أو الخاصة ، ولا جعله في ثیابه ، لما روی عدي بن حاتم رضي الله تعالی عنه قال : ” أتیت النبي ﷺ وفي عنقي صلیب من ذهب ، فقال : یا عدي ! إطرح عنک هذا الوثن “ ۔ (۸۸/۱۲ ، التصلیب)
