ابجد حروف کا تعویذ اور اس کا استعمال

مسئلہ:

جو تعویذات آیاتِ مبارکہ یا احادیثِ مبارکہ سے تیار کیے گئے ہوں، یا بزرگوں سے منقول ہوں، ان کے الفاظ درست ہوں، تو ایسے الفاظ یا ان کے ابجد حروف سے تعویذ بنانا اور اس کا استعمال کرنا درست اور شرعاً جائز ہے، جب کہ مبہم غیر معلوم المعنیٰ یا شرکیہ الفاظ سے تیار کی گئی تعویذ کا استعمال جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الشامیة “ : قالوا: وإنما تکره العوذة إذا کانت لغیر لسان العرب ولا یدري ما هو، ولعله یدخله سحر أو کفر أو غیر ذلک، وأما ما کان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به۔ اه۔ (۵۲۳/۹ ، کتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ط: دار الکتب العلمیة بیروت، ۳۶۳/۶ ، ط: دار الفکر)

(فتاویٰ بنوریه، ر قم الفتویٰ:۱۳۱۰۵)

اوپر تک سکرول کریں۔