اجتماعی خاندانوں میں والدین اور اولاد کے لیے لائحۂ عمل

مسئلہ:

بسا اوقات اجتماعی خاندانوں میں ساس اور بہووٴں کے درمیان بناوٴ نہیں ہوتا ، یا پھر بھائی بھائی یا بہووٴں کے درمیان مستقل جھگڑے ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اولاد اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ علیحدہ رہنے لگتے ہیں، اولاد کے اِس عمل سے والدین اُن سے ناراض رہتے ہیں کہ ”جورُو“ کے غلام بن گئے، اگر اولاد دیندار نہیں ہیں، تو انہیں والدین کی اس ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، مگر دیندار اولاد پریشان ہوجاتی ہے کہ ہمارے والدین ہم سے ناراض ہیں، تو ہماری آخرت برباد ہوجائیگی، حالانکہ والدین کی یہ ناراضگی بے جا وبے موقع ہے، کیوں کہ الگ مکان میں رہنے کا مطالبہ ہر بیوی کا حق ہے(۱)، اور جب شوہر اپنی بیوی کو اُس کا یہ حق دیدے، تو اس کا یہ عمل جائز ودرست ہی نہیں، بلکہ باعثِ اجر وثواب ہے، جس پر والدین کو خوش ہونا چاہیے- ناراض نہیں، اگر وہ ناراض ہوتے ہیں تو اُن کی یہ ناراضگی ناحق وبے جا ہے، جس کی وجہ سے اولاد کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں(۲)، البتہ الگ رہنے والی اولاد پر لازم ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہرگز نہ چھوڑیں، اُن کے پاس آمد ورفت جاری رکھیں،حتی المقدور اُن کی جانی ومالی خدمت کرتے رہیں، اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھیں، اور سب کے حق میں دعاء خیر کا اہتمام رکھیں۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الشامیة “ : ففي الشریفة ذات الیسار لا بدّ من إفرادها في دار ومتوسط الحال یکفیها بیت واحد من دار۔

(۳۲۲/۵، باب النفقة، مطلب في مسکن الزوجة، ط؛ بیروت)

ما في ” فتح القدیر “ : وعلی الزوج أن یسکنها في دار مفردة لیس فیها أحد من أهله إلا أن تختار ذلک، لأن السکنی من کفایتها فتجب لها کالنفقة، وقد أوجبه الله تعالی مقرونًا بالنفقة۔ (۳۵۷/۴، باب النفقة، فصل وعلی الزوج أن یسکنها الخ، الفتاوی الهندیة:۵۵۶/۱، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثاني في السکنی)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله ﷺ: ” لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق “ ۔ رواه في شرح السنة ۔

(ص:۳۲۱، کتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثاني)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وقضی ربک ألا تعبدوا إلا إیاه وبالوالدین إحسٰنا ۔۔۔۔۔ وقل رب ارحمهما کما ربّیٰني صغیرًا﴾۔ (سورة الإسراء:۲۳۔۲۴)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : فإنه دل علی الإجتناب عن جمیع الأقوال المحرمة والإتیان بجمیع کرائم الأقوال والأفعال في التواضع والخدمة والإنفاق علیهما، ثم الدعاء لهما في العاقبة۔ (۱۳۳/۹، کتاب الآداب، باب البرّ والصلة، الفصل الأول)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۲۰۳۰)

اوپر تک سکرول کریں۔