مسئلہ:
اجتماعی خاندانوں یعنی جوائنٹ فیملیوں میں ایک بڑا مسئلہ یہ اُبھر کر سامنے آرہا ہے کہ بعض اولاد کو اپنے والدین کی طرف سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ انہیں نظر انداز کرتے ہیں، اور دوسری اولاد کو اُن پر ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے گھریلو ناچاقی اور بے اتفاقی پروان چڑھتی ہے، اس سلسلے میں والدین کے لیے شریعتِ اسلامیہ کی تعلیم وہدایت یہ ہے کہ عام حالات میں وہ اپنے تمام بیٹوں ، پوتوں اور بہووٴں کے درمیان مساوات وبرابری کا برتاوٴ کریں، ہاں! اگر کوئی اولاد سرکش ونافرمان ہو، تو اس کی طرف کم توجہ کرنے اورمطیع وفرماں بردار کی طرف زیادہ توجہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں(۱)، لیکن بلاوجہ شرعی اولاد کے درمیان برابری نہ کرنا گھریلو جھگڑوں اور ناچاقی کا سبب بنتا ہے، اور فقہ کا قاعدہ ہے: ” سببِ گناہ بھی گناہ ہوا کرتا ہے“(۲) – اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ” داد ودھش اور عطیات میں اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو“۔ (۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي الخانیة: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وکذا في العطایا إن لم یقصد به الإضرار، وإن قصده فسوی بینهم یعطی البنت کالإبن عند الثاني وعلیه الفتوی۔ (۵۰۱/۸۔۵۰۲، کتاب الهبة)
ما في ” البحر الرائق “ : فروع : یکره تفضیل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزیادة فضل له في الدین ۔۔۔۔۔ وفي الخلاصة: المختار التسویة بین الذکر والأنثی في الهبة۔ (۴۹۰/۷، کتاب الهبة، الفتاوی الهندیة:۳۹۱/۴، کتاب الهبة، الباب السادس في الهبة للصغیر)
(۲) ما في ” الشامیة “ : ما کان سببًا لمحظور فهو محظور۔ (۴۲۶/۹، کتاب الحظر والإباحة، قبیل فصل في اللبس)
ما في ” بدائع الصنائع “ : ما أدی إلی الحرام فهو حرام۔ (۴۸۸/۶)
(۳) ما في ” شرح الطیبي “ : فیه استحباب التسویة بین الأولاد في الهبة فلا یفضل بعضهم علی بعض سواء کانوا ذکورًا أو إناثًا۔
(۱۹/۶، کتاب البیوع ، باب العطایا، تحت رقم الحدیث :۳۰۱۹)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۲۵۸۹)
