مسئلہ:
موجودہ دور میں اجتماعی قربانی کا رواج عام ہورہا ہے، اور بہت سارے ادارے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں، شرعاً یہ جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے،(۱) لیکن اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے جن سات شریکوں کی طرف سے یہ قربانی ہے، ان کی تعیین اور ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے، ورنہ تعیین نہ ہونے کی وجہ سے قربانی صحیح نہیں ہوگی۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : والبقر والبعیر یجزی عن سبعة إذا کانوا یریدون وجه الله، والتقدیر بالسبع یمنع الزیادة، ولا یمنع النقصان، کذا فی الخلاصة۔(۳۰۴/۵)
ما فی ” الهدایة “ : تذبح بقرة أو بدنة عن سبعة، والقیاس أن لا تجوز إلا عن واحد، لأن الإراقة واحدة وهی القربة إلا إنا ترکناه بالأثر، وهو ما روی عن جابر رضی الله تعالی عنه أنه قال: نحرنا مع رسول الله ﷺ البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة۔(۴۴۴/۴، کتاب الأضحیة، مجمع الأنهر: ۱۶۸/۴)
(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ذبح حیوان مخصوص بنیة القربة فی وقت مخصوص۔ قال فی ” البدائع “: فلا تجزی التضحیة بدونها لأن الذبح قد یکون للحم ، وقد یکون للقربة، والفعل لا یقع قربة بدون النیة۔ (۳۷۸/۹، کتاب الأضحیة)
ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته للزحیلي“ : ویشترط لجواز إقامة التضحیة علی المکلف بها نیة الأضحیة، فلا تجزی الأضحیة بدونها، لأن الذبح قد یکون للحم وقد یکون للقربة، والفعل لا یقع قربة بدون النیة۔ (۲۷۱۳/۴، کتاب الأضحیة)
