اخبار، ریڈیووغیرہ کے ذریعہ گم شدہ سامان کا اعلان

مسئلہ:

لقطہ یعنی گری پڑی چیز کا اعلان کرناواجب ہے ، فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ بازار اورمساجد کے دروازوں پر اعلان کرے ، لقطہ کی اہمیت اورقیمت کے لحاظ سے اعلان وتشہیر کے لیے رسائل، اخباراورریڈیو وغیرہ کا انتخاب بھی کیا جاسکتاہے ،جب لقطہ یعنی گری پڑی چیز کے مالک کا پتہ چل جائے تواسے دیدے ،اوراگرمناسب مدت مثلاً؛ ایک سال تک اعلان کیا اورمالک کا پتہ نہ چلا توصدقہ کردے(۱) ،اور اگر خود مستحق ہوتوخود بھی استعمال کرسکتا ہے ، پھر اگرمالک آجائے تواسے اختیار ہوگا ،کہ اپنی چیز لے لے یااجر وثواب حاصل کرے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ویعرّف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة یغلب علی ظنه أن صاحبها لا یطلبها بعد ذلک ، هو الصحیح ۔ کذا في مجمع البحرین ۔۔۔۔۔۔ ثم بعد تعریف المدة المذکورة الملتقط مخیر بین أن یحفظها حسبة ، وبین أن یتصدق بها ، فإن جاء صاحبها فأمضی الصدقة یکون له ثوابها ، وإن لم یمضها ضمن الملتقِط ۔ (۲۸۹/۲ ، کتاب اللقطة)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (إلی أن علم أن صاحبها لا یطلبها ۔۔۔۔۔ الخ) ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة : قوله : (إلی أن علم أن صاحبها لا یطلبها) لم یجعل للتعریف مدة اتباعًا للسرخسي ؛ فإنه بنی الحکم علی غالب الرأي ، فیعرف القلیل والکثیر إلی أن یغلب علی رأیه أن صاحبه لا یطلبه ، وصححه في الهدایة ، وفي المضمرات والجوهرة ، وعلیه الفتوی ۔ (۴۳۶/۶ ، کتاب اللقطة)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فینتفع الرافع بها لو فقیرًا ، وإلا تصدق بها علی فقیر ولو علی أصله وفرعه وعرسه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فإن جاء مالکها بعد التصدق خیر بین إجازة فعله ، ولو بعد هلاکها وله ثوابها أو تضمینه ۔ ” الدر المختار “ ۔ (۴۳۷/۶۴۴۹ ، کتاب اللقطة)

اوپر تک سکرول کریں۔