ادائیگی سے پہلے زکوة کی رقم کا ضائع ہونا

مسئلہ:

کسی شخص نے اپنے مال وغیرہ کا حساب لگاکر جتنی زکوٰة اس پر ہوتی تھی نکال کر علیحدہ کردی، اب اس کی جیب کسی نے کاٹ لی، یا کسی طرح اس کی زکوٰة کی رقم ضائع ہوگئی، تو اس صورت میں اس کی زکوٰة ادا نہیں ہوگی، بلکہ اسے دوبارہ زکوٰة دینی ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء ۔ الدر المختار۔ قال الشامی تحت قوله: (ولا یخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزکوٰة۔ (۱۸۹/۳، کتاب الزکوٰة)

ما فی ” البحر الرائق “ : قال ابن نجیم تحت قوله: (وشرط أدائها نیة مقارنة للأداء ولعزل ما وجب) أشار المصنف إلی أنه لا یخرج بعزل ما وجب عن العهدة، بل لا بد من الأداء إلی الفقیر لما فی الخانیة لو أفرز من النصاب خمسة ثم ضاعت لا تسقط عنه الزکوٰة۔ (۳۶۹/۲، کتاب الزکوٰة)

ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : ولا یخرج المکلف بالزکوٰة عن عهدة التکلیف بعزل مال الزکوٰة إلا بالأداء إلی مستحقیها، فلو ضاعت قبل ذلک لا تسقط عنه۔

(۳۵۹/۱، کتاب الزکاة، أداء الزکاة)

(فتاوی محمودیه: ۱۵۸/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔