اذان ختم ہونے کے بعد جواب دینا

مسئلہ:

جو شخص اذان کے وقت نماز، تلاوت، درس وتدریس، تقریر سننے،کھانے پینے یا استنجاء وغیرہ میں مشغول ہو، جس کی وجہ سے وہ اذان کا جواب نہ دے سکا اور اذان ختم ہوچکی ہو، مگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، تو اسے ایک ساتھ پوری اذان کا جواب دینا چاہیے ، اور اگر زیادہ دیر ہوچکی ہو تو جواب نہیں دینا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ویجیب) وجوبا ۔۔۔۔ (من سمع الأذان) ولو جنبا لا حائضا ونفساء وسامع خطبة وفي صلاة جنازة وجماع، ومُستراح وأکل وتعلیم علم وتعلّمه ۔ التنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة: تنبیه: هل یجیب بعد الفراغ من هذه المذکورات أم لا؟ ینبغي أنه إن لم یطل الفصل فنعم، وإن طال فلا، أخذا مما یأتي۔

(۶۰/۲، مطلب في کراهة تکرار الجماعة في المسجد، دار الکتاب دیوبند)

اوپر تک سکرول کریں۔