استقرار کے بعد شیرخوار کو دودھ پلانا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر بچے کے دودھ پینے کے زمانے (مفتیٰ بہ قول کے مطابق دو سال) میں عورت کو حمل ٹھہرجائے ، تو شیرخوار بچے کو دودھ پلانا درست نہیں ہے، اُن کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ صحیح بات یہ ہے کہ دودھ پلانے کی مدت کے دوران اگر ماں کا دودھ ہو تو وہ بلاشبہ بچے کو پلاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت وقباحت نہیں ہے، البتہ اگر حمل ٹھہر جانے کے بعد بچے کو دودھ پلانا اگر بچے یا حاملہ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو اور کوئی مسلمان ماہر معالج دودھ پلانے کو منع کردے، تو پھر دودھ پلانے سے بچنا بہتر ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) ۔ فتح ۔ وبه یفتی ۔ کما في تصحیح القدوري عن العون، لکن في الجوهرة أنه في الحولین ونصف ولو بعد الفطام محرم۔ وعلیه الفتوی ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (لکن الخ) استدراک علی قوله: ” وبه یفتی “ وحاصله انهما قولان أفتی بکل منهما۔ (۳۹۳/۴-۳۹۵، کتاب النکاح، باب الرضاع، بیروت)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن جذامة بنت وهب قالت: حضرت رسول الله ﷺ في أناس وهو یقول: ” لقد هممتُ أن أنهی عن الغیلة، فنظرت في الروم وفارس، فإذاهم یغیلون أولادهم، فلا یضرّ أولادهم ذلک شیئًا“۔(ص:۲۷۶، کتاب النکاح، باب المباشرة، الفصل الأول، رقم الحدیث:۳۱۸۹)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال العلماء: وسبب همه علیه الصلاة والسلام بالنهي أنه خاف معه ضرر الولد الرضیع لأن الأطباء یقولون أن ذلک اللبن داء والعرب تکرهه وتنقیه، ذکره السیوطي، قال القاضي: کان العرب یحترزون عن الغیلة ویزعمون أنها تضرّ الولد، وکان ذلک من المشهورات الذائعة عندهم فأراد ا لنبي ﷺ أن ینهی عنها لذلک، فرأی أن فارس والروم یفعلون ذلک ولا یبالون به ثم أنه لا یعود علی أولادهم بضرر فلم ینه۔ (۳۱۷/۶۔۳۱۸، باب المباشرة)

(فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ: ۴۲۷۴۰)

اوپر تک سکرول کریں۔