مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسٹیل کے برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے، کیوں کہ وہ لوہا ہے، ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے، کیوں کہ حضرات فقہاء کرام نے تانبے اور پیتل کے برتنوں میں کھانے کو مکروہ لکھا ہے، اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اس کا زنگ کھانے میں شامل ہوجاتا ہے، جو صحت کے لیے مضر ہے، لیکن قلعی کرنے کے بعد ان کا استعمال بھی جائز ہے، رہے اسٹیل کے برتن تو ان میں یہ علت نہیں پائی جاتی، اس لیے ان کا استعمال بلا کراہت درست ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویکره الأکل في نحاس أو صفر والأفضل الخزف ۔ الدر المختار ۔ قال العلامة ابن عابدین رحمه الله تعالی: ثم قید النحاس بالغیر المطلی بالرصاص، وهکذا قال بعض من کتب علی هذا الکتاب، أي قبل طلیه بالقزدیر والشب، لأنه یدخل الصدأ في الطعام فیورث ضررًا عظیمًا، وأما بعده فلا ۔۔۔۔۔ وفي الجوهرة: وأما الآنیة من غیر الفضة والذهب فلا بأس بالأکل والشرب فیها، والانتفاع بها کالحدید والصفر والنحاس والرصاص والخشب والطین ۔ فتنبه۔
(۴۱۷/۹، کتاب الحظر والإباحة)
(احسن الفتاویٰ:۱۲۰/۸)
