(فتویٰ نمبر: ۲۰۰)
سوال:
دس آدمیوں کی ایک کمیٹی(Commity)بنی،ان دس آدمیوں نے ایک کمپنی (Company) سے ڈیڑھ ہزار (1500) جوس مشینیں (Juice machine) خریدکر اپنی ملکیت میں لے لیے، ہرمشین (Machine) کی بازاری قیمت (Market value) دوہزار (2000)روپے سے زائد ہے، ان ڈیڑھ ہزار (1500) جوس مشینوں (Juice machine) کے تین سو (300) روپے ماہانہ قسط (Installment)کے اعتبار سے پندرہ آدمیوں کا انتخاب کرکے حاصل شدہ منافع سے حج وعمرہ کے لیے پندرہ روزہ ٹور (Tour) پر روانہ کیا جائے گا، اور بقیہ چودہ سو پچاسی(1485) افراد میں سے ہر فردکو اپنی جمع کردہ رقم کے عوض ایک ایک جوس مشین (Juice machine) دیا جائے گا، البتہ جن افراد کا نام قرعہ اندازی میں نکلاانہیں کچھ بھی نہیں دیا جائے گا، وہ صرف پندرہ روزہ حج وعمرہ ٹور (Tour)کے مستحق قرار پائیں گے، اور اگر کوئی ممبر بعض قسطیں (Installments) ادا کرنے کے بعد آگے کی قسطیں جمع نہ کرے،تو اسے اس کی جمع کردہ قسطوں کی رقم واپس بھی کی جائے گی، اسکیم (Scheme)کی اس صورت کا شرعی نقطہٴ نظر سے کیا حکم ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسکیم کی اس صورت میں قمار ہے، اور قمار شرعاً حرام ہے؛ اس لیے یہ صورت بھی حرام ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : حقیقته تملیک المال علی المخاطرة ، وهو أصل في بطلان عقود التملیکات الواقعة علی الأخطار ، کالهبات والصدقات وعقود البیاعات ونحوها ۔ (۵۸۲/۲ ، باب تحریم الخمر)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : ” نهی النبي ﷺ عن بیع الحصاة وبیع الغرر “ ۔ (۲/۲ ، کتاب البیوع)
ما في ” رد المحتار “: قال الشامي رحمه اللّٰه تعالی: لأن القمار من القمر الذي یزداد تارة وینقص أخری، وسمي القمار قمارًا ؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه ، ویجوز أن یستفید مال صاحبه ، وهو حرام بالنص۔
(۴۹۲/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، فتاوی معاصرة: ۴۱۹/۲ ،الجوائز التي ترصدها الشرکات التجاریة، الموسوعة الفقهیة: ۴۰۴/۳۹) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۳/۱۰ھ
