اشیائے محرمہ کی ہلاکت پر ضمان کا حکم شرعی !

(فتویٰ نمبر: ۹۱)

سوال:

اگر کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کی کوئی چیز ہلاک کردی، اس حال میں کہ اس کو ناجائز چیز میں مشغول پایا، تو کیا اس پرضمان آئے گا یا نہیں؟ مثلاً:

۱-کسی مسلمان نے انگور کا شیرہ خریدا، پھر اس کو شراب بنا ڈالا، پھر دوسرے مسلمان نے اس کو ہلاک کردیا۔

۲-کسی بچے نے دوسرے بچے کی کاپی پھاڑدی، اس حال میں کہ اس میں ناجائز اورگندے اشعار پائے۔

۳-کسی آدمی نے اپنی قضائے حاجتِ بشریہ کے لیے ربڑ کی عورت خریدا، اور دوسرے مسلمان نے اس کو ہلاک کردیا۔ مذکورہ تینوں صورتوں میں ہلاک کرنے والے پر ضمان آئے گا یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی شراب غصب کرکے اس کو ضائع وہلاک کردے، تو غاصب مسلم ہو یا غیر مسلم اس کا ضمان واجب نہیں ہوگا، کیوں کہ شراب مسلمان کے حق میں غیر متقوم ہے، اورشی ٴ غیر متقوم کے اِتلاف پر ضمان واجب نہیں ہوتا ۔(۱)

۲– فحش اشعار، فحش ناول یا ایسے رسائل جو جرائم پیشہ لوگوں کے قصص پر مشتمل ہوں، ان سب کا مطالعہ کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ یہ سب لہوِ حرام میں داخل ہیں(۲)، اور چوں کہ یہ مذکورہ کتب ورسائل مُعَدَّةٌ لِلْمَعْصِیَةِ (معصیت کے لیے تیار کیا جانا)ہوتے ہیں ،اس لیے ان کا متقوم ہونا ساقط ہوگا، لہٰذا ان سب کو پھاڑنا وجلانا اسی طرح درست ہے جس طرح ڈھول باجے اور شراب کے برتن کا توڑنا، اور ناجائز وحرام چیزوں کا بہا دینا شرعاً درست ہے، اور جس طرح ان کے توڑدینے اور بہادینے پر ضمان واجب نہیں ہوتا، اسی طرح ان کتب ورسائل کے پھاڑنے اور جلانے سے ضمان واجب نہیں ہوگا، اور ان دونوں کے حکم میں علتِ مشترکہ ” مُعَدَّةٌ لِلْمَعْصِیَةِ “( معصیت کے لیے تیار کیا جانا) ہے، نیز جب ان کا ضائع کرنا حاکمِ وقت کے اِذن واَمر سے ہو تو موجبِ ضمان نہیں ہوتا، تو اِذنِ شارع کی صورت میں بدرجہٴ اَولیٰ موجبِ ضمان نہیں ہوگا، یہی قول صاحبین کا ہے جو مفتیٰ بہ ہے۔(۳)

۳– شریعتِ اسلامی میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے صرف دو طریقے ہیں: ایک بیوی اور دوسری باندی و لونڈی، اس کے علاوہ جنسی خواہشات کی تکمیل کے جتنے طریقے ہیں، سب ناجائز وحرام ہیں، اس میں ربڑ کی عورت بھی داخل ہے؛ اس لیے اس سے استمتاع ناجائز وحرام ہے(۴)، اور درحقیقت ربڑ کی عورت اسی اَمرِ معصیت کے ارتکاب کے لیے تیار کی گئی ہے، اس لیے اگر کوئی مسلم شخص اس کو ضائع وہلاک کردے، تووہ ضامن نہیں ہوگا۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وبخلاف خمر المسلم وخنزیره بأن أسلم وهما في یده إذا أتلفهما مسلم أو ذمي فلا ضمان ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة: قوله: (وبخلاف إلخ) ووجھه عدم تقومها في حق المسلم ؛ لأنه باعتبار دین المغصوب منه ۔(۳۰۳/۹ ، ۳۰۴ ، کتاب الغصب ، تبیین الحقائق : ۳۳۷/۶ ، ۳۳۹ ، کتاب الغصب)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : إتلاف خمر المسلم فإنه لا یوجب الضمان ولو کان المتلف ذمیًا ۔

(ص/۲۸۰ ، ط : بیروت ، الهدایة مع الدرایة : ۳/۳۸۴ ، کتاب الغصب)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِيْ لَهوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰه بِغَیْرِ عِلْمٍ﴾ ۔ (سورة لقمان : ۶)

ما في ” أحکام القرآن للعلامة المفتي محمد شفیع العثماني “ : فعلی هذا دلت الآیة علی حرمة کل ما یلهي ویشتغل عن ذکر اللّٰه تعالی وعبادته، سواء کان غنا ومعازف أو شيء آخر من الملاهي الشطرنج وأمثاله ، وما یسمی في عرفنا بالتاش وکنکوا ومثله، ومطالعة الکتب المشتملة علی المخترعات والأباطیل المسماة في عرفنا بالناول ۔

(۱۸۵/۳ ، ط : إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراتشي باکستان)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وضمن بکسر معزف) بکسر المیم آلة اللهو ولو لکافر ۔ ابن کمال ۔ (قیمته) خشبًا منحوتًا (صالحًا لغیر اللهو و) ضمن القیمة لا المثل (بإراقة سکر ومُنَصَّفٍ) سیجيء بیانه في الأشربة (وصح بیعها) کلها ، وقالا : لا یضمن ولا یصح بیعها ، وعلیه الفتوی ۔ ملتقی ودرر وزیلعي وغیرها ۔ وأقره المصنف ۔ (در مختار) ۔ (۳۰۶/۹ ، ۳۰۷ ، کتاب الغصب ، ط : بیروت)

ما في ” تبیین الحقائق “ : (ومن کسر معزفًا أو أراق سکرًا أو مُنَصَّفًا ضمن ، وصح بیع هذه الأشیاء) وهذا عند أبي حنیفة رحمه اللّٰه ، وقالا : لا یضمنها ، ولا یجوز بیعها ؛ لأنها معدة للمعصیة فیسقط تقومها کالخمر ، ولأنه فعله بإذن الشرع ، لقوله علیه الصلاة و السلام : ” بعثت بکسر المزامیر وقتل الخنازیر “ ۔ ولقوله علیه الصلاة و السلام : ” إذا رأی أحدکم منکرًا فلینکر بیده ، فإن لم یستطع فبلسانه ، فإن لم یستطع فبقلبه ، وذلک أضعف الإیمان “ ۔ والکسر هو الإنکار بالید ، ولهذا لو فعله بأمر أولي الأمر کالإمام لا یضمن ، فبأمر الشرع أولی ۔(۳۴۵/۶، ۳۴۶، کتاب الغصب، الشرح الثمیري علی مختصر القدوري :۳۸۵/۲ ،کتاب الغصب)

(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إلا عَلٰی أَزْوَاجِهمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانِهمْ فَإِنَّهمْ غُیْرُمَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَأُولٓئِکَ همُ العٰدُوْنَ ﴾ ۔ (سورة الموٴمنون: ۶ ، ۷)

ما في ” تفسیر الجلالین بهامش القرآن الکریم “ : ﴿إلا عَلٰی أزْوَاجِهمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانِهمْ﴾ أي السراري فإنهم غیر ملومین في أیمانهن۔ ﴿فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ﴾ من الزوجات والسراري کالاستمناء بالید في إتیانهن۔ ﴿فَأُولٓئِکَ همُ العٰدُوْن﴾ المتجاوزون إلی ما لا یحل لهم۔ (ص/۳۴۲ ، ط : موٴسسة الریان)

ما في ” رد المحتار “ : ویدل أیضًا علی ما قلنا ما في الزیلعي حیث استدل علی عدم حله بالکف لقوله تعالی : ﴿وَالَّذِیْنَ همْ لِفُرُوْجِهمْ حٰفِظُوْنَ﴾ الآیة ۔ وقال : فلم یبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة ، فأفاد عدم الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغیرهما ۔ (۳۷۱/۳ ، کتاب الصوم ، مطلب في حکم الاستمناء بالکف)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال القرطبي رحمه اللّٰه تحت قوله تعالی : ﴿ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانِهمْ﴾ ۔ هذا یقتضي تحریم الزنا وما قلناه من الاستمناء ۔

(۷۲/۱۲ ، کذا مدارک التنزیل :۲/۲۹)

(۵) ما في ” فتح الباري شرح البخاري “ : وأوتي شریح في طنبور کسر فلم یقض فیه بشيء ، قوله : (وأوتي شریح في طنبور کسر فلم یقض فیه شيء) ۔ أي لم یضمنه صاحبه ۔۔۔۔۔۔۔ أن رجلا کسر طنبورًا لرجل فرفعه إلی شریح فلم یضمنه شیئًا ۔ (۱۴۳/۵ ، ۱۴۶)

ما في ” فتح الباري “ : وقال الطبري : في حدیث ابن مسعود جواز کسر آلات الباطل وما لا یصلح إلا في المعصیة ، حتی تزول هیئتها وینتفع برضاضها ۔ (۱۴۷/۵) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۲/۶/ ۱۴۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔