اضطباع کب مسنون ہے ؟

مسئلہ:

بعض حجاج کرام احرام کے پہنتے ہی اضطباع یعنی احرام کی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیتے ہیں، جبکہ عام حالات میں اضطباع نہیں کرنا چاہیے، خاص طور سے نماز کے دوران ، کیوں کہ نماز کے دوران مونڈھے کا کھلا رکھنا مکروہ ہے، اضطباع صرف اس طواف میں مسنون ہے جس کے بعد سعی ہو، البتہ طوافِ زیارت کے بعد اگر سعی کرنی ہو اور احرام کے کپڑے اتار دیئے ہوں، تو اس میں اضطباع نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن ابن عباس رضی الله تعالی عنهما : ” أن النبی ﷺ وأصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبیت، وجعلوا أردیتهم تحت إباطهم قد قذفوها علی عواتقهم الیسری “۔ (ص:۲۵۹، باب الاضطباع)

ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : وأخذ الطائف عن یمینه مما یلی الباب جاعلاً ردائه تحت إبطه الیمنی ملقیاً طرفه علی کتفه الأیسر استناناً ۔تنویر۔ قال العلامة ابن عابدین: واعلم أن الاضطباع سنة فی جمیع أشواط الطواف کما صرح به ابن الضیاء، فإذا فرغ من الطواف ترکه حتی إذا صلی رکعتی الطواف مضطجعاً تکره لکشفه منکبه، ویأتی الکلام علی أنه لا اضطباع فی السعي، قوله : (استناناً) أی فی کل طواف بعده سعی کطواف القدوم والعمرة، وکطواف الزیارة إن کان أخر السعی ولم یکن لابساً ۔

(۴۴۸/۳۔۴۴۹، کتاب الحج، مطلب فی دخول مکة)

ما فی ” موسوعة الفقه الإسلامی“ : والسنة الاضطباع عند البدء بالطواف إلی نهایة الطواف بالبیت ثم یسوی ردائه بعد الفراغ من الطواف، والاضطباع محله الطواف فقط دون غیره من المناسک، ویسن الاضطباع فی طواف القدوم وطواف العمرة فقط ۔ (۲۸۹/۳، مکتبه بیت الأفکار الدولیة، الموسوعة الفقهیة الکویتیة: ۱۰۹/۵۔۱۱۰، اضطباع)

(فتاوی رحیمیه: ۷۷/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔