اعتکاف ٹوٹ جانے پر اس کی قضا

مسئلہ:

نفل اعتکاف کی قضا واجب نہیں، اس لیے کہ وہ مسجد سے نکلنے سے ٹوٹتا نہیں، بلکہ ختم ہوجاتا ہے، اعتکافِ منذور اگر ٹوٹ جائے، خواہ نذرِ معین ہو یا غیر معین، تو سب ایام کی قضا واجب ہے، نئے سرے سے اتنے دن پورے کرے، کیوں کہ ان میں تتابُع یعنی مسلسل رکھنا لازم ہے، اورعشرہٴ اخیرہٴ رمضان کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو صرف اس دن کی قضا واجب ہے، جس میں اعتکاف ٹوٹا، فساد کے بعد یہ اعتکاف نفل ہوگیا، ایک دن کی قضا چاہے رمضان ہی میں کرلے یا رمضان کے بعد نفل روزے کے ساتھ کرے۔

ایک دن کی قضا میں رات دن دونوں کی قضا واجب ہے یا صرف دن کی؟ … قواعد سے یوں مفہوم ہوتا ہے کہ اگر اعتکاف دن میں فاسد ہوا، تو صرف دن کی قضا واجب ہوگی، صبح صادق سے قبل شروع کرکے غروبِ آفتاب تک کرے، اور اگر رات میں اعتکاف فاسد ہوا ، تو رات دن دونوں کی قضا واجب ہے، غروبِ آفتاب سے قبل شروع کرکے دوسرے روز غروب کے بعد ختم کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (فلو شرع في نفله ثم قطعه لا یلزمه قضاءه ۔۔۔۔۔ علی الظاهر) من المذهب۔ (۴۳۴/۳)

ما في ” الشامیة “ : فلو نذر اعتکاف یوم لزمه فقط، نواه أو لم ینو، وإن نوی اللیلة معه لزماه، ولو نذر اعتکاف لیلة لم یصح ما لم ینو بها الیوم۔ (۴۴۴/۳، ط: بیروت)

ما في ” الشامیة “ : والحاصل أن الوجه یقتضي لزوم کل یوم شرع فیما عندهما۔ ۔۔۔۔ بخلاف الباقي، لأن کل یوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعیة۔

(۴۳۵/۳، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ط: بیروت)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ذهب الحنفیة إلی أن الاعتکاف إذا فسد فالذي فسد لا یخلو إما أن یکون واجبًا، وهو المنذور، وإما أن یکون تطوعًا، فإن کان واجبًا یقضي إذا قدر علی القضاء۔ ۔۔۔۔۔ ویقضي بالصوم لأنه فاته مع الصوم فیقضیه مع الصوم۔ ۔۔۔۔ وإذا کان اعتکاف شهرٍ بغیر عینه یلزمه الاستقبال لأنه یلزمه متتابعًا فیُراعي فیه صفة التتابع، وسواء فسد بصنعه من غیر عذر ۔۔۔۔۔ أو فسد بصنعه لعذرٍ ۔۔۔۔۔ وأما أعتکاف التطوع إذا قطعه قبل تمام الیوم فلا شيء علیه في روایة الأصل۔ اه۔

(۴۱/۵۔۴۲، قضاء الاعتکاف)

 (اعتکاف کے مسائل :ص/۲۲۔۲۳)

اوپر تک سکرول کریں۔