مسئلہ:
اگر معتکف کو اعتکاف کی حالت میں احتلام ہوجائے، تو اس سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا، بلکہ معتکف کو چاہیے کہ بیدار ہوتے ہی پہلے تیمم کرلے، پھر فوری مسجد سے نکل جائے، اور جسے احتلام کا اندیشہ ہو اس کے لیے بہتر ہے کہ پہلے سے اپنے ساتھ کوئی ڈھیلا وغیرہ رکھ لے، ورنہ مسجد کی زمین پر ہی تیمم کرلے، اگر کسی ضرر کا اندیشہ ہو ، یا پانی ملنے میں کچھ دیر ہو، یا پانی گرم ہورہا ہو، تو اسی تیمم کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وکذا (لا یفسد) لو احتلم ۔ کذا في فتح القدیر۔ (۲۱۳/۱)
ما في ” موسوعة الفقه الإسلامي “ : والاحتلام لا یفسد الاعتکاف۔ (۲۰۹/۳، کتاب الصیام، ما یبطل به الاعتکاف)
(اعتکاف کے مسائل :ص/۲۲)
