اعضاء وضو وغسل پر کلر پینٹ، فی وی کوئک وغیرہ لگ جائے تو وضو ہوگا یا نہیں؟

مسئلہ:

اگراعضاء وضووغسل وغیرہ پر پینٹ(Paint)،فیی وی کوک(Fevikwik)یا گو ندو غیرہ لگ جائے، جو و ضو اور غسل میں پانی پہونچنے کے لیے مانع ہو تو اس صورت میں وضو اور غسل نہیں ہوگااوراس سے غفلت کی بنا پر جو نماز اداکی جائے گی وہ نماز نہیں ہوگی، جب تک کہ اس چیز کوجدا کرکے اس پر پانی نہ بہادیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’الفتاوی التاتارخانیة‘‘: الغسل إسالة الماء علی جمیع ما یمکن غسله من بدنه مرة واحدة حتی لو ترک شیئا یسیرا لم یصبه الماء لم یخرج من الجنابة وکذا في الوضوء ۔

(۱۱۱/۱، بدائع الصنائع:۱۴۲/۱، في تفسیر الغسل)

ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: و لا بد من زوال ما یمنع وصول الماء للجسد کشمع وعجین ۔ (ص۱۰۲)

ما في ’’ الفتاوی الهندیة ‘‘ : وإن کان علی ظاھر البدن جلد سمک أو خبز ممضوغ قد جف فاغتسل ولم یصل الماء إلی ما تحته لایجوز۔ (۱۳/۱، الباب الثاني)

اوپر تک سکرول کریں۔