” الحجة علی ما قلنا “ کی حیثیت

مسئلہ:

بعض لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ مسئلہ پیش کرنے کے بعد، اُس مسئلے کی دلیل بیان کرنے کے لیے ” الحجة علی ما قلنا “ کہنا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ ” علیٰ“ ضرر کے لیے آتا ہے، اور کسی کے خلاف دلیل پیش کرنے کے معنی میں ”حجةٌ “ علیٰ صلہ کے ساتھ آتا ہے؟ اُن کا یہ اشکال اُس وقت درست ہوتا جب کہ ” علیٰ “ یہاں ”حجةٌ“ کا صلہ ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیوں کہ ”علیٰ “ یہاں ” موجودةٌ “ شبہ فعل (جوکہ ”علیٰ“ حرفِ جار سے پہلے مقدر ہے) کا صلہ ہے، اور ” علیٰ ما قلنا “ جار مجرور” موجودة “ شبہ فعل سے متعلق ہوکر ”الحجة “ کی خبر واقع ہورہی ہے، اور ” الحجة “ دلیل اور برہان کے معنی میں ہے، جو کہ اسم ہے، اور قاعدہ ہے کہ کبھی خبر بظاہر جار مجرور اور ظرف کے شکل میں ہوا کرتی ہے ، مگر وہ کسی فعل یا شبہ فعل کے متعلق ہوکر ہی خبر بنتی ہے، نہ کہ اسم سے(۱)،لہٰذا اُن کا یہ اشکال درست نہیں۔نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کلامِ عرب میں اکثر وبیشتر الفاظ کئی معانی کے لیے مستعمل ہوتے ہیں، اس طور پر کہ اُن کا ایک حقیقی معنی ہوتا ہے اور ایک مجازی ، اسی طرح کلامِ عرب میں حروف بھی اپنا ایک حقیقی معنی رکھتے ہیں اور ایک مجازی، اسی طرح ”علٰی“بھی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً:

۱– استعلاء : بلندی کے معنی کو ظاہر کرنے کے لیے ، جیسے ” وعلی الفلک تحملون “ ۔

نوٹ:- ”علیٰ“ استعلاء کے لیے آتا ہے ، خواہ یہ استعلاء حقیقی ہو، جیسے ” زیدٌ علی السطح “ (زید چھت پر ہے)، یا استعلاء مجازی جیسے ” علیه دَینٌ “ ( اس پر قرض ہے)۔(۲)

۲– سببیت وتعلیل : سبب وعلت ظاہر کرنے کے لیے جیسے ” ولتُکبِّروا اللہ علی ما ہداکم “ (لما ہداکم)

۳-ظرفیت: فی کے معنی میں جیسے” ودخل المدینة علی حین غفلة من أہلہا“ (في حین)

نوٹ:- صاحبِ کافیہ رحمہ اللہ کے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شے جس میں استقرار اور استعلاء دونوں کے معنی بن سکتے ہوں، وہاں دونوں (علیٰ ، فی) حرفوں میں سے جس کو لایا جائے درست ہے، جیسے” جلستُ علی الأرض ، جلستُ في الأرض “ ۔(۳)

 ۴– مصاحبت : مع کے معنی میں ، جیسے ” وآتی المال علی حبه “ (مع حبه)

 ۵– بمعنی مِن: جیسے” الذین إذا اکتالوا علی الناس یستوفون “ ۔ (اکتالوا منہم)

 ۶– بمعنی با : جیسے” حقیق علیٰ أن لا أقول علی اللہ إلا الحق“ (حقیق بي)

 ۷ – لزوم: لزوم کے لیے جیسے” کُتبَ علیکم الصیامُ “ ۔(۴)

الغرض ! کلامِ عرب کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس کا احاطہ خود اہلِ عرب بھی آج تک نہیں کرسکے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الکافیة مع حاشیة “ : وما وقع ظرفاً فالأکثر علی أنه مقدر بجملة۔ أي الخبر الذي وقع ظرفًا نحو زیدٌ في الدار وعمرو من الإکرام، فأکثر النحاة علی أنه مقدر بجملة أي متعلق بفعل محذوف من الأفعال العامة لدلالة الظرف علیه۔ (ص:۲۰)

(۲) ما في ” الکافیة مع حاشیة “ : علی للاستعلاء- أي للاستعلاء شيء علی شيء حقیقة نحو زیدٌ علی السطح أو حکمًا نحو علیه دینٌ۔ (ص:۱۱۵)

(۳) (الکافیة مع حاشیة :ص/۱۱۳، رقم الحاشیة:۹، سعایة النحو: ص/۳۲۴)

(۴) (تدریب النحو: ص/۲۲۷، حروف الجر ومعانیها)

اوپر تک سکرول کریں۔