مسئلہ:
آج کل سینٹ (پرفیومس )اور عطر وغیرہ میں جو” الکحل“ ملایا جاتا ہے،اگر وہ انگور یا کھجور کی شراب سے بنا ہوا ہو تو وہ ناپاک ہے ،ا س کا استعمال نا جائز ہے، اور اگر وہ اِن دونوں شرابوں کے علاوہ کسی اور پاک چیز کی شراب سے ،مثلاً :مکئی ،جوار، بیر، آلو،چاول یا پیٹرول وغیرہ سے بناہوا ہو تو اس کے کپڑوں پر لگانے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا،اس کا استعمال جائز ہے ،اگر کسی نے ایسا پرفیوم (Perfume)کپڑے پر لگا کر نماز پڑھ لی تو اس کی نماز صحیح ہوگی، لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
نوٹ: البتہ صاحبِ ”احسن الفتاویٰ “حضرت مولانامفتی رشیداحمدصاحب پاکستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ” تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آ ج کل” اسپرٹ“ اور” الکحل“ کیلئے انگور اور کھجور استعمال نہیں کی جاتی ، لهٰذاشیخین رحمهمااللہ کے قول کے مطابق پاک ہے ، حضراتِ فقہاء رحمهم اللہ تعالیٰ نے اگرچہ فسادِ زمان کی حکمت کی بناء پرامام محمد رحمہ اللہ کے قول کو مفتیٰ بہ قرار دیا ہے ،مگر آج کل ضرورتِ تداوی وعمومِ بلویٰ کی رعایت کے پیشِ نظر شیخین رحمہما اللہ کے قول پرفتویٰ دیاجاتاہے ، ویسے بھی اصولِ فتویٰ کے لحاظ سے قولِ شیخین رحمہما اللہ کو ترجیح ہوتی ہے، إلا لعارضٍ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” تکملة فتح الملهم “ : حکم الکحول المسکرة(Alcohals) فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتها أو طهارتها ، وإن اتخذت من غیرها فالأمر فیها سهل علی مذهب أبي حنیفة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن معظم الکحول التي تستعمل الیوم في الأدویة والعطور وغیرها لا تتخذ من العنب أو التمر ، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البیترول وغیره ، وحینئذ هناک فسحة في الأخذ بقول أبي حنیفة عند عموم البلوٰی ؛ والله سبحانه أعلم ۔(۶۰۸/۳ ، کتاب الطهارة ، الأشربة ، حکم الکحول المسکرة)
(احسن الفتاویٰ:۴۸۸/۸،کتاب الأشربة، نظام الفتاویٰ : ۳۵۳،۳۵۲/۱)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وأما الأشربة المتخذة من الشعیر أو الذرة أو التفاح أو العسل إذا اشتد وهو مطبوخ أو غیر مطبوخ فإنه یجوز شربه ما دون السکر عند أبي حنیفة وأبي یوسف رحمهما الله تعالیٰ ؛ وعند محمد رحمه الله تعالیٰ حرام شربه ؛ قال الفقیه : وبه نأخذ ۔ کذا في الخلاصة۔ (۴۱۴/۵ ، کتاب الأشربة ، الباب الثاني في المتفرقات)
