الکحل ملا ہوا ٹوتھ پیسٹ اور صابون استعمال کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

جو چیزیں ہم روزہ مرّہ استعمال کرتے ہیں، مثلاً ٹوتھ پیسٹ ، صابون وغیرہ ، ان میں بہت سارے کیمیکل ہوتے ہیں، ان میں صنعتی الکحل بھی ہوتا ہے، جو پٹرولیم سے بنایا جاتا ہے، اور کھجور وانگور سے بھی بنایا جاتا ہے، جب تک شرعی تحقیق سے یہ ثابت نہ ہو کہ ان میں حرام الکحل کی آمیزش کی گئی، اور اس کی ماہیت کو کسی طریقہ سے تبدیل نہیں کیا گیا، تب تک ان کے استعمال پر حرام ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، اور ان کا استعمال درست ہے(۱)، البتہ اگر کسی کو یہ شک ہو کہ ان میں حرام چیزوں کی آمیزش کی جاتی ہے، تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ان کے استعمال سے اپنے آپ کو بچائے۔ (۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الأشباه مع شرحه للحموي “ : هل الأصل في الأشیاء الإباحة- قال الحموي: ذکر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعلیقه أن المختار أن- الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا- (۲۵۲/۱، تحت القاعدة الثالثة، هل الأصل في الأشیاء الإباحة)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : القاعدة الأولی: الیقین لا یزول بالشکّ معنی هذه القاعدة أن ما ثبت بیقین لا یرتفع بالشک، وما ثبت بیقین لا یرتفع إلا بیقین۔

(۲۸۹/۵، یقین، قواعد الفقه:ص/۱۱)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن النعمان بن بشیر رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ: ” الحلال بیّن والحرام بیّن، وبینهما أمور مشتبهةٌ، فمن ترک ما شبّه علیه من الإثم کان لما استبان اترک، ومن اجترأ علی ما یشک فیه من الإثم أوشک أن یواقعما استبان، والمعاصي حمی الله، من یرتع حول الحمی یوشک أن یواقعه “۔

(۲۷۵/۱، کتاب البیوع، باب الحلال بین والحرام بین وبینهما أمور مشتبهات، رقم الحدیث:۲۰۵۱، صحیح مسلم:۲۸/۲، کتاب المساقاة والمزارعة، باب أخذ الحلال وترک الشبهات)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن النعمان بن بشیر رضي الله عنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ یقول: ” الحلال بیّنٌ والحرام بیّن، وبین ذلک أمورٌ مشتبهات، لا یدري کثیرٌ من الناس أمِن الحلال هي أم من الحرام، فمن ترکها استبرأ لدینه وعرضه فقد سلم، ومن واقع شیئًا منها یوشک أن یواقع الحرام کما أنه من یرعی حول الحمی یوشک أن یواقعه، ألا وإن لکل ملک حمی؛ ألا وإن حمی الله محارمه “۔(۲۲۹/۱، کتاب البیوع، باب ما جاء في ترک الشبهات، رقم الحدیث:۱۲۰۵)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۳۵۲۲۶)

اوپر تک سکرول کریں۔