مسئلہ:
بسا اوقات طلبہ واساتذہ جماعت میں شریک رہتے ہیں، جب امام سلام پھیرتا ہے تو جو طالب علم اپنے استاذ کے بازو میں ہوتا ہے وہ پیچھے کھِسک جاتا ہے ، طالب علم کا اپنے استاذ کے ادب میں اس طرح کھسک کر بیٹھنا یہ بھی درست ہے، اور برابر میں بیٹھے رہنا یہ بھی خلافِ ادب نہیں(۱)، البتہ پیچھے کھسکتے وقت یہ ضرور دیکھ لیناچاہیے کہ پیچھے کی صف میں کوئی مصلی تو نہیں ہے، کہ اس طرح کھسک کر بیٹھنے کی وجہ سے اسے سجدہ وغیرہ میں تکلیف ہو، کیوں کہ کسی کے ادب کی خاطر کسی کو اذیت دینے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : وإن سبق أحد إلی الصف الأول فدخل رجل أکبر منه سنًا أو أهل علم ینبغي أن یتأخر ویقدمه تعظیمًا له۔
(۳۱۰/۲، باب الإمامة، مطلب في جواز الإیثار بالقرب، بیروت، منحة الخالق علی البحر الرائق:۶۱۹/۱، باب الإمامة، بیروت)
(۲) ما في ” الأشباه للسیوطي “ : الواجب لا یترک لسنة۔(۳۱۶/۱، القاعدة الثالثة والعشرون، الکتاب الثاني)
(فتاویٰ محمودیہ : ۱۵۲/۱۲)
