مسئلہ:
بعض لوگ گھڑی ساز کے پاس اپنی گھڑیاں مرمت کیلئے دے کر واپس لینے نہیں آتے اور نہ اس کی امید ہوتی ہے کہ وہ آکر لے جائیں، اس صورت میں گھڑی ساز کیلئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ گھڑیوں کی قیمت خیرات کرکے ان گھڑیوں کو اپنی ملک بنالے ، بلکہ تمام عمر ممکن حد تک ان کی حفاظت کرنی چاہیے، تا وقتیکہ اصل مالک انہیں لے جائیں، یا ان کی طرف سے کوئی ہدایت وصول ہو ، یا ان کی موت کا علم ہوجائے ، تو ان کے ورثاء کے سپرد کردی جائیں، کیوں کہ گھڑیاں گھڑی ساز کے پاس امانت ہیں، اور امانت کو لقطہ (گری پڑی چیز) کی طرح صدقہ نہیں کیا جاسکتا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : غاب المودع ولا یدری حیاته ولا مماته یحفظها أبداً حتی یعلم بموته وورثته، کذا فی الوجیز للکردری، ولا یتصدق بها بخلاف اللقطة، کذا فی الفتاوی العتابیة۔ (۳۵۴/۴، الباب السابع فی رد الودیعة)
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامي : غاب رب الودیعة ولا یدری أهو حي أم میت؟ یمسکها حتی یعلم موته، ولا یتصدق بها بخلاف اللقطة۔ (۴۷۳/۸، کتاب الودیعة)
ما فی ” المحیط البرهانی “ : استودع رجلاً ألف درهم ثم غاب رب الودیعة ولا یدری أ حي أم میت؟ فعلیه أن یمسکها حتی یعلم موته، ولا یتصدق بها بخلاف اللقطة۔
(۳۳۷/۶، کتاب الودیعة، الباب العاشر فی المتفرقات)
(فتاوی عثمانی : ۴۷۲/۳)
