(فتویٰ نمبر: ۱۵۷)
سوال:
ایک شخص کے پاس مسجد کے نام کی رقم بطورِ امانت رکھی ہوئی تھی، اس شخص نے وہ رقم بطورِ قرض کسی کو دینا چاہی اور بینک سے رقم نکلوالی، اور راستے میں وہ رقم چوری ہوگئی، تو:
کیاوہ رقم اسی امین کے ذمہ ہے یا جس شخص کے لیے وہ رقم نکلوائی ہے اُس کے ذمہ ہے؟
کیا امانت کی رقم بطورِ قرض دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مسجد کی رقم امانت ہے،لہٰذا متولی یا امین کو مسجد کے علاوہ کسی بھی جگہ خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے، صورتِ مسئولہ میں امین کی جانب سے تعدی (زیادتی) پائی گئی، لہٰذا اس مذکورہ رقم کا ضامن امین ہوگا نہ کہ مستقرض ،کیوں کہ مستقرض (طالبِ قرض)کے قبضہ میں وہ رقم پہنچی ہی نہیں، لہٰذا وہ ضامن نہ ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : إن القیم لیس له إقراض مال المسجد ، قال في الجامع الفصولین : لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد ۔۔۔۔۔۔۔۔ فلو أقرضه ضمن، وکذا المستقرض۔ (۴۰۱/۵)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “: واعلم أن الآمر لا ضمان علیه بالأمر إلا في ستة: إذا کان الآمر سلطانًا، أو أبًا، أو سیدًا، أو المأمور صبیًا، أو عبدً ، أمره بإتلاف مال غیر سیده ۔(۲۵۶/۹، کتاب الغصب)
ما في ” مختصر القدوري مع حاشیته “ : وللمودع أن یحفظها بنفسه وبمن في عیاله، فإن حفظها بغیرهم أو أودعها ضمن ۔ (قدوري) ۔ وفي حاشیته : قوله : (ضمن) لأن صاحبها لم یرض بید غیره ۔(ص/۱۴۴ ، کتاب الودیعة) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔ ۴/۱۲/ ۱۴۲۹ھ
