مسئلہ:
انٹرنیٹ کے ذریعہ قرآنِ کریم ،حدیثِ نبوی ﷺ، عقائد ِاسلام، احکامِ اسلام ونظریاتِ شرع پر غیروں کی طرف سے جو یلغار کی جارہی ہے، اور اسلام واہلِ اسلام کی جو غلط شبیہ پیش کی جارہی ہے، اس کا جواب انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی دینا ممکن ہے ، اس لئے اس مقصد کے خاطر انٹرنیٹ کا استعمال جائز ہی نہیں بلکہ بعض اوقات لازم ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأعدّوا لهم ما استطعتم من قوة﴾ ۔ (سورة الأنفال : ۶۰)
ما في ” سنن أبي داود “ : قوله ﷺ : ” جاهدوا المشرکین بأموالکم وأنفسکم وألسنتکم “ ۔(ص/۳۳۹ ، کتاب الجهاد ، باب کراهة ترک الغزو)
ما في ” فقه النوازل “ : خالد بن و لیدکے لئے حضرت ابوبکر کا یہ قول:” حاربہم بمثل ما یحاربونک ، السیف بالسیف ، والرُّمح بالرمح “۔اورقاعدہٴ شرعیہ :” ان ما لا یتم الواجب إلا به فهو واجب “ کے عموم میں (مذکورہ حکم)داخل ہے۔ (۲۲۵/۳)
