مسئلہ:
آج کل انٹرنیٹ کے ذریعہ خرید وفروخت کی ایک نئی صورت فارکس (Forex)کے نام سے متعارف کرائی جارہی ہے، جس میں آدمی رقم جمع کرکے اپنا ایک اکاوٴنٹ کھولتا ہے، گھر بیٹھے اس اکاوٴنٹ میں موجود رقم کے ذریعہ کوئی چیز مثلاً سونا، چاندی یا اور کوئی چیز اس مارکیٹ سے خریدتا ہے، پھر اس پر قبضہ سے پہلے ہی نفع ملنے پر اس کو آگے بیچ دیتا ہے، عموماً اس طرح کے کاروبار میں خرید وفروخت مقصود نہیں ہوتی ، بلکہ فرق برابر کرکے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے، شرعاً اس طرح کا کاروبار کرنا منع ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکاة المصابیح “ : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ” أما الذي نهی عنه النبي ﷺ فهو الطعام أن یباع حتی یقبض “۔ قال ابن عباس رضي الله عنهما: ” ولا أحسب کل شيء إلا مثله “۔ (ص:۲۴۷، کتاب البیوع، باب المنهي عنها من البیوع، قدیمي)
ما في ” موسوعة فتح الملهم مع التکملة “ : فیحرم بیع کل شيء قبل قبضه طعاماً کان أو غیره۔ (۳۵۰/۱، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض)
ما في ” مجمع الأنهر“ : لا یصح بیع المنقول قبل قبضه لنهیه علیه السلام عن بیع ما لم یقبض، ولأن فیه غرر انفساخ العقد علی اعتبار الهلاک۔
(۱۱۳/۳، باب البیع الفاسد، الهدایة:۷۷/۳، کتاب البیوع، باب التولیة، البحر الرائق:۱۹۳/۶، کتاب البیوع، فصل في بیان التصرف في البیع، تبیین الحقائق:۴۳۵/۴، کتاب البیوع، فصل في معرفة المبیع)
