انکم ٹیکس (Income tax)سے بچنے کے لیے حکومتی اسکیم (scheme)میں پیسے ڈالنا، میڈیکل انشورنس(Medical insurance) کرانا!

(فتو یٰ نمبر:۶۸)

سوال:

۱-میں حکومتی ادارے کا ملازم ہوں،ہر سال میری تنخواہ میں سے کمپنی قانون کے مطابق انکم ٹیکس (Income Tax) کاٹ لیتی ہے، میں آئی ٹی (Income Tax) سے بچنے کے لیے کسی بھی حکومتی اسکیم(Scheme) میں پیسے نہیں ڈالتا، جب کہ آئی ٹی (Income tax) سے بچنے کے لیے کسی بھی حکومتی اسکیم میں پیسے ڈالناضروری ہے، تو کیا اس طرح پیسے ڈال کر آئی ٹی (Income tax)سے بچنا جائز ہے یا نہیں؟ یاپھرآئی ٹی (Income Tax) سے بچنے کی کوئی دوسری صورت ہو توتحریر فرمائیں!

۲-کسی بھی بیماری کے لیے میڈیکل بیمہ (Medical Insurance)کرانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-اگر حکومتی اسکیم میں پیسہ بھرنے سے آئی ٹی (Income Tax) کی بچت ہوتی ہے ،تو انکم ٹیکس کی بچت کی نیت سے حکومتی اسکیم میں پیسہ لگانا اس شرط کے ساتھ جائز ہوسکتا ہے کہ اس میں جمع کرنے کا مقصد صرف رقم کی حفاظت ہو، لیکن جمع شدہ رقم پر جو زائد سودی رقم حاصل ہو اس کو بلا نیتِ ثواب فقرا پر تقسیم کردینا واجب ہے، اس لیے کہ وہ مالِ حرام ہے، اور مالک کا علم نہ ہونے کی صورت میں فقرا ہی اس کے مستحق ہیں۔(۱)

۲-عام حالات میں میڈیکل انشورنس (Medical insurance)مختلف قسم کے ناجائز اُمور،قمار یعنی جوا(۲)، سود(۳) اور غرر(۴) وغیرہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

البتہ اگر میڈیکل انشورنس لازمی ہو، یا کسی نے لاعلمی میں کرالیا ہو ، تو اب اگر متعینہ مدت میں وہ بیمار ہوجائے اور وہ صاحبِ استطاعت ہے، تو جتنی رقم اس نے انشورنس(Insurance) ادارہ کو جمع کرائی ہے، اس سے زیادہ رقم سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ ایک طرح کا قرض ہے، اور قرض پر نفع حاصل کرنا شرعاً حرام ہے۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” بذل المجهود في حل سنن أبي داود “ : وأما إذا کان عند رجل مال خبیث ، فإمّا إن ملکه بعقد فاسد ، أو حصل له بغیر عقد ، ولا یمکنه أن یرده إلی مالکه ، ویرید أن یدفع مظلمته عن نفسه ، فلیس له حیلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء؛ لأنه لو أنفق علی نفسه فقد استحکم ما ارتکبه من الفعل الحرام ، ودخل تحت قوله ﷺ : ” ثم ذکر الرجل یطیل السفر أشعث أغبر یمد یدیه إلی السماء یا رب یارب ، ومطعمه حرام ، وملبسه حرام “ ۔ الحدیث ، أو أضاعه واستهلکه فدخل تحت قوله ﷺ : ” نهی عن إضاعة المال “ ۔ فیلزم علیه أن یدفعه إلی الفقراء ، ولکن لا یرید بذلک الأجر والثواب ، ولکن یرید دفع المعصیة عن نفسه ، ویدل علیه مسائل اللقطة ۔

(۳۵۹/۱ ،۳۶۰ ، کتاب الطهارة ، باب فرض الوضوء ، ط : مکتبه خلیلیه سهارنفور ، و ط : مکتبه قاسمیه ملتان ، رقم : ۵۹ ۔ وأیضًا : ۳۷/۱ ، ط : دار البشائر الإسلامیة بیروت ، رد المحتار : ۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا ، ط : بیروت)

ما في ” قواعد الفقه “ : ما حصل بسبب خبیث فالسبیل رده ۔ (ص/۱۱۵ ، رقم القاعدة :۲۹۳)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : والقمار تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین۔ (ص/۳۶۹)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأحل اللّٰه البیع وحرم الربوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)

ما في ” معجم لغة الفقهاء “ : الربوا کل زیادة مشروطة في العقد خالیة عن عوض مشروع ۔ (ص/۲۱۸)

(۴) ما في ” صحیح مسلم “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع الحصاة وبیع الغرر “ ۔ (۲/۲)

ما في”معجم لغة الفقهاء“: الغرر بفتح الغین والراء ، مصدر غر یغر”الجهالة“۔ (ص/۳۳۰)

(۵) ما في ” قواعد الفقه “ : ” کل قرض جر نفعًا فهو ربا حرام “ ۔ (ص/۱۰۲،رقم القاعدة :۲۳۰) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی 

اوپر تک سکرول کریں۔