انگوٹھی پہننا سنت ہے یانہیں؟

مسئلہ:

حضرات فقہاء کرام ۴/ گرام ۳۷۴/ ملی گرام چاندی کی انگوٹھی پہننے کو جائز اور نہ پہننے کو افضل کہتے ہیں ، اور دلیل میں دُرِّ مختار کی عبارت ” ترک التختم لغیر السلطان والقاضي أفضل “ لکھتے ہیں، تو اس پر بعض لوگوں کی طرف سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ جب آپ ﷺ نے انگوٹھی پہنی ہے ، تو پھر وہ سنت کیسے نہیں ہوگی ، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لیے حجت آپ ﷺ کا عمل ہے ، نہ کہ دُرِ مختار کی عبارت، اس طرح کے لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جس علت کی بنا پر حضور ﷺ نے انگوٹھی پہنی تھی، وہ آج کل مفقود ہے، اس لیے اُسے سنت نہیں کہا جاسکتا ، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ ﷺ نے قیصر وکِسریٰ اور نجاشی کو خطوط لکھے، تو آپ سے کہا گیا کہ یہ لوگ بغیر مُہر کے کوئی خط قبول نہیں کرتے، تو آپ ﷺ نے انگوٹھی بنوائی، جس کا حلقہ یعنی رِنگ چاندی کا تھا، اور اس میں ” مُحمدٌ رَسُولُ اللّٰہِ “ نقش تھا، اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی عادتِ شریفہ انگوٹھی پہننے کی نہیں تھی، جب آپ کو عجمی حکمرانوں کو خطوط لکھنے کی ضرورت پیش آئی ، اور آپ کو یہ بتایا گیا کہ وہ بغیر مہر کے خطوط قبول نہیں کرتے ، تو مہر لگانے کی غرض سے آپ نے انگوٹھی بنوائی، آج بھی اگر کوئی حاکم یا قاضی اس غرض سے انگوٹھی پہنے ، تو اس کے لیے یہ سنت ہوگا، اسی بات کو صاحبِ دُرِ مختار نے ان الفاظ میں لکھا ہے: ” ترک التختم لغیر السلطان والقاضي أفضل ، أشار إلی أن التختم سنة لمن یحتاج إلیه ، کما في الاختیار“ – نیز اُن لوگوں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ دُرِمختار میں قرآن وحدیث سے الگ کوئی فقہ پیش نہیں کی گئی، اُس کے مسائل قرآن وحدیث ہی سے مستنبط ہیں، اور وہ اُسی کی توضیح وتشریح ہیں، جیسا کہ صاحب دُرِمختار فرماتے ہیں: ” ومَحَطُّها أنَّ الفِقه هو ثَمرةُ الحَدیث، ولَیسَ ثواب الفقیه أقلَّ من ثواب المُحدِّث “ – یعنی ”مقصودِ کلام یہ ہے کہ فقہ ، حدیث کا ثمرہ ہے، اور فقیہ کا ثواب ، محدِّث کے ثواب سے کم نہیں ہے“- اس لیے اس طرح کے اشکالات سے بچنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” فتاوی سراجیه علی هامش فتاوی قاضی خان “ : وقال حسام الدین: لا التختم إنما یکون سنة إذا کانت له حاجة إلی التختم بأن کان سلطاناً أو قاضیًا، أما إذا لم یکن محتاجًا إلی التختم فالترک أولی۔(۲۹/۳، کتاب الکراهیة، باب اللبس، الدر المختار مع الشامیة:۱۳۸/۱-۵۲۰/۹، الموسوعة الفقهیة:۲۴/۱۱، الفتاوی الهندیة:۳۳۵/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔