مسئلہ:
مذہبِ اسلام نے اچھا نام رکھنے کو باپ پر بچے کا حق قرار دیا ہے، اور تمام انسانوں کو یہ پیغام دیا کہ اپنی اولاد کے لیے ایسے بہترین ناموں کا انتخاب کریں جو بھلائی وخیر خواہی پر دال ہوں، اور عبدیت وبندگی کے اظہار پر مبنی ہوں، اور ایسے ناموں سے قطعاً گریز کیا جائے جو انسان کو اُس کے مقام ومرتبہ کا احساس نہ دلاتے ہوں، اور عبدیت کے دائرے سے خارج کرتے ہوں، لیکن افسوس صد افسوس! آج کل اسلامی وضع قطع اور رہن سہن پسِ پشت ڈالنے کے ساتھ اپنی شناخت – اسلامی نام رکھنا بھی چھوڑ دیا گیا، بلکہ بعض مسلمان تو غیر اسلامی ماحول سے مرعوب ہوکر اپنے بچوں کا نام غیروں کی طرح اور بعض فلمی اداکاروں سے متأثر ہوکر اُن کے فلمی نام رکھتے ہیں، جب کہ دیگر بعض لوگ آدھا اسلامی اور آدھا غیر اسلامی نام رکھتے ہیں، اور کچھ لوگوں کو نیا نام رکھنے کا ایسا بخار چڑھا ہوتا ہے جو دنیا میں پہلے وجود میں ہی نہ آیا ہو، اور اُس نام کا مطلب دنیا کی کسی ڈکشنری(لغت) میں موجودنہیں ہوتا، وہ نام نہ تو اسم ہوتا ہے، نہ فعل، نہ حرف، بلکہ مہمل ہوتا ہے، اور بعضے تو قرآنی الفاظ کو نام میں ڈھالنے کے درپے ہوتے ہیں، جو فی نفسہ باعثِ برکت ہے، لیکن وہ قرآن سے ایسا لفظ چُن کر لاتے ہیں جو یا تو حرف ہوتا ہے ، یا جملہٴ ناقصہ، شرطیہ یا انشائیہ، جس کا انسان کے نام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، یاد رہے! کہ اسلامی نام ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان کی شناخت کے اظہار میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں ، اس لیے اپنے بچوں کے نام اسلامی رکھیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله ﷺ: ” تُدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم، فأحسنوا أسمائَکم “ ۔ رواه أحمد وأبوداود ۔
(۱۳۴۷/۳، رقم الحدیث: ۴۷۶۸، باب الأسامي، الفصل الثاني، السنن الکبری للبیهقي:۵۱۵/۹، رقم الحدیث: ۱۹۳۰۸، کتاب الضحایا، باب ما یستحب أن یسمی به، بیروت، سنن أبي داود:ص/۶۷۶، رقم الحدیث: ۴۹۴۸، کتاب الأدب، باب في تغییر الإسم القبیح، قدیمي)
ما في ” فیض القدیر “ : ” سمّوا بأسماء الأنبیاء، ولا تُسمّوا بأسماء الملائکة “۔ (عن عبد الله بن جراد) ۔۔۔۔ قوله: (سمّوا بأسماء الأنبیاء ۔۔۔ الخ) ۔۔۔۔۔ ویسنّ بأسماء الأنبیاء ۔اه۔ (۱۱۳/۴، رقم الحدیث: ۴۷۱۷)
ما في ” المصنف لإبن أبي شیبة “ : عن سعید بن المسیب قال: ”أحب الأسماء إلیه أسماء الأنبیاء“۔ (۳۴۵/۱۳، کتاب الأدب)
ما في ” صحیح مسلم “ : عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن أحب أسمائکم إلی الله عبد الله وعبد الرحمن “۔
(۱۶۹/۶، رقم: ۵۷۰۹، باب النهي عن التکني بأبي القاسم، ط: دار الجیل بیروت)
