مسئلہ:
عام حالات میں اسلامی مزاج کے مطابق عہدہ واقتدار کی طلب غیر مستحسن ہے، کیوں کہ عہدہ کی طلب وحرص(۱)، اور مسابقت ایک ایسی لذت ہے کہ اگر عہدہ چھن جائے تو پھر حسرتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے(۲)،لیکن اگر طلبِ عہدہ کے پیچھے کسی حظّ نفس کا دخل نہ ہوبلکہ محض انسانیت کا درد، امانت ودیانت کے ساتھ مفاداتِ عامہ کے تحفظ کا جذبہ کارفرما ہو، نیز انسانوں کو صحیح فائدہ پہنچانا ، خلقِ خدا کو جبر وظلم سے نجات دلانا اور شرور وفتن سے بچانا مقصد ہو ، فساق وفجار کے منتخب ہونے سے معاشرہ میں بے دینی کی ترویج کا خطرہ ہو، اور اس عہدہ ومنصب کے لائق دیگر افراد موجود نہ ہوں، بلکہ تنہا وہی شخص اس عہدہ کے لیے موزوں ہو، تو اب اس پرمذکورہ تمام مقاصد کے حصول کے لیے الیکشن میں اپنے آپ کو بحیثیت امیدوار پیش کرنا واجب ہے(۳)، البتہ وہ شخص از خود پرچہٴ امیدواری داخل نہ کرے بلکہ دوسرے لوگوں کے ہاتھوں پرچہٴ نامزدگی داخل کریں، تاکہ وہ طلبِ عہدہ میں متہم نہ ہو۔(۴)
الحجة علی ماقلنا :
(۱) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الرحمن بن سمرة قال: قال لي رسول الله ﷺ: ” لا تسأل الامارة فإنک إن اُعطِیتَها عن مسئلة وُکِلتَ إلیها، وإن اُعطیتها عن غیر مسئلة اُعِنتَ علیها “ ۔ متفق علیه ۔ (ص:۳۲۰ ، کتاب الامارة والقضاء )
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة عن النبي ﷺ: ” إنکم ستحرصون علی الامارة وستکون ندامة یوم القیامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة “ ۔ رواه البخاري ۔
(ص:۳۲۰ ، کتاب الامارة والقضاء ، الفصل الأول ، قدیمی)
(۳) ما في ” البحر الرائق “ : ولیس النهي عن السوٴال علی إطلاقه بل مقید بأن لا یتعین للقضاء أما إن تعین بأن لم یکن أحد غیره یصلح للقضاء وجب علیه الطلب صیانة لحقوق المسلمین ودفعا لظلم الظالمین ۔(۴۵۹/۶، کتاب القضاء، فتح القدیر: ۲۴۴/۷، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة:۱۳۱/۵، الأحکام السلطانیة للماوردي:ص/۷۵)
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿اجعلني علی خزائن الأرض إني حفیظ علیم﴾ ۔ (سورۃ یوسف: ۵۵)
ما في ” التفسیر الماجدي “ : (ص:۴۹۷، سورۃ یوسف ، آیة:۵۵، حاشیة :۱۱۰)
ما في ” بیان القرآن للتھانوي “ : (۲۵۴/۲، ادارہ تالیفات اشرفیة پاکستان)
ما في ” معارف القرآن “ : (۹۱/۵، قرطبی:۲۱۶/۹- ۲۱۷،روح المعانی:۲۲۵/۳)
ما في ” أحکام القرآن للتھانوي “ : ویستدل بالآیة علی أحکام : ۔۔۔۔ الأول جواز طلب الملک والمنزلة في الدنیا إذا کان الغرض صالحًا، کما وقع من نبي الله یوسف علیه السلام حیث قال: ﴿اجعلني علی خزائن الأرض إني حفیظ علیم﴾ وکما طلب سلیمان علیه السلام ملکا لا ینبغي لأحد من بعده ۔ الخ ۔
(۴۳/۴ ، أحکام القرآن لإبن العربي :۱۶۴۹/۲، سورة صٓ/۳۵)
(۴) ما في ’’آداب القاضی‘‘ ” وأما ترک الطلب فلیس بشرط لجواز التقلید بالإجماع ، فیجوز تقلید الطالب بلا خلاف ، لأنہ یقدر علی القضاء بالحق ، لکن لا ینبغي أن یقلد ، لأن الطالب یکون متہمًا “ ۔ (۹۱/۹، کتاب آداب القاضي)
(غیر مسلم ملکوں میں آباد مسلمانوں کے مسائل اور ان کا شرعی حل:ص/۵۵)
(جواہر الفقہ :۲۹۱/۲، مطبوعہ دیوبند، غیر مسلم ملکوں میں آباد مسلمانوں کے مسائل اور ان کا شرعی حل:ص/۵۶ ،فتاوی حقانیہ:۳۱۵/۲، انتخابات میں خود امیدوار بننا،نئے مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص/۱۳۶،بائیسواں فقہی سمینار ”امروہہ یوپی“ بتاریخ : ۲۵- ۲۷ / ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ مطابق ۹- ۱۱ / مارچ ۲۰۱۳ء)
