اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو مدرک کو خلیفہ بنائے

مسئلہ:

اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو بہتر ہے کہ وہ کسی مدرک ،یعنی ایسا شخص جو تکبیر تحریمہ کے بعد سے ہی امام کے ساتھ شریک ہے(۱) کو خلیفہ بنائے(۲)، تاہم اگر امام نے کسی مسبوق کو خلیفہ بنادیا تو بھی درست ہے، اور یہ مسبوق خلیفہ سلام کے وقت کسی ایسے شخص کو اپنی جگہ امام بنادے جس کی نماز پوری ہوگئی ہے، وہ سلام پھیر دے، اور یہ مسبوق کھڑا ہو کر اپنی باقی ماندہ رکعات پوری کرلے ۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” التعریفات الفقهیة للمجددي “ : المدرک : هو الذی أدرک الإمام بعد تکبیرة الإفتتاح أی أدرک جمیع رکعات الإمام ۔ (ص/۴۷۵)

(۲) ما فی ” البحر الرائق “ : والأولی للإمام أن یقدم مدرکاً لأنه أقدر علی إتمام صلاته ۔

(۶۶۰/۱ ، باب الحدث فی الصلاة ، الشامیة :۳۰۴/۲ ، باب الإستخلاف ، الهدایة : ۱۳۲/۱ ، باب الحدث فی الصلوة ، الفتاوی التاتارخانیة : ۴۳۹/۱ ، باب الاستخلاف)

(۳) ما فی ” بدائع الصنائع “ : إن المسبوق یصلح خلیفة فیتم صلاة الإمام ثم یقوم إلی قضاء ما سبق به من غیر تسلیم لبقاء بعض أرکان الصلاة علیه ۔

(۵۳۰/۱ ، شرائط جواز الاستخلاف)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو استخلف الإمام مسبوقاً صح ، فلو أتم المسبوق صلاة الإمام قدم مدرکاً للسلام ۔

(۳۱۴/۲ ، باب الاستخلاف ، البحرالرائق :۶۶۰/۱ ، باب الحدث فی الصلوة ،الهدایة: ۱۳۱/۱ ، باب الحدث فی الصلوة)

(فتاوی دار العلوم :۴۰۲/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔