مسئلہ:
اگر کسی مقتدی کا وضو ٹوٹ جائے اور مسجد میں ازدحام بہت ہے کہ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے، تب بھی اس شخص کیلئے وضو کیلئے ہر صف کے دو آدمیوں کے درمیان سے گزرنا جائز ہے، کیوں کہ آپ ا کا فرمان ہے:” فلینصرف “ یعنی لوٹ جائے، مطلق ہے (۱)، اس میں ازدحام وغیرہ کی کوئی قید نہیں ہے، اور اصول ہے کہ ”المطلق یجري علی إطلاقه“ (۲)، تاہم اگر نکلنا دشوار ہو اور نکلتے وقت کسی نمازی کے تحویل صدر ہوجانے سے نماز کے فاسد ہونے کا خطرہ ہو (۳) ،تو یہ شخص وہیں اپنی جگہ بیٹھا رہے، نماز میں شریک نہ رہے، پھر وضو کرکے دوبارہ پوری نماز پڑھ لے ۔(۴)
لحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” اعلاء السنن “ : عن عائشة عن النبی ﷺ قال : ” إذا صلی أحدکم فأحدث فلیمسک علی أنفه ثم لینصرف “ ۔
(۴/۵ ، باب جواز البناء لمن أحدث ، السنن لإبن ماجة :ص/۸۵ ، باب ما جاء فیمن أحدث فی الصلوة کیف ینصرف)
ما فی ” الهدایة “ : ومن سبقه الحدث فی الصلوة انصرف ۔(۱۲۸/۱ ، حلبي کبیر :ص/۴۵۲ ، الفتاوی التاتارخانیة :۴۳۳/۱)
(۲) ما فی ” القواعد الکلیة والضوابط الفقهیة “ : المطلق یجری علی إطلاقه ما لم یقم دلیل التقیید نصاً دلالةً ۔ (ص/۲۹۰)
(۳) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتحویل صدره عن القبلة ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة : قال العلامة ابن عابدین الشامي رحمه الله : الحاصل أن المذهب أنه إذا حوله صدره فسدت ۔(۳۳۴/۲ ، مطلب فی التشبه بأهل الکتاب ، البحر الرائق :۴۹۷/۱ ، باب شروط الصلاة)
(۴) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ثم لجواز البناء شروط ، منها أن ینصرف من ساعته حتی لو أدّی رکناً مع الحدث أو مکث مکانه قدر ما یوٴدی رکناً فسدت صلاته ۔
(۹۴/۱، الباب السادس فی الحدث فی الصلاة ، حلبی کبیر:ص/۴۵۳)
(فتاوی محمودیه :۵۸۰/۶)
