اگر کوئی شخص امام کو رکوع میں پالے

مسئلہ:

اگر کوئی شخص امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے پہلے ایک لمحہ بھی امام کو رکوع میں پالے، گو یہ لمحہ ایک تسبیح سے کم ہو تو وہ اس رکعت کو پانے والا سمجھا جائیگا، البتہ اگر امام رکوع سے اٹھنے کی حالت میں ہو،اور مقتدی رکوع میں جانے کی حالت میں ہو، تو وہ رکعت کو پانے والا نہ ہوگا،لہٰذا اس کو رکعت دہرانا لازم ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : والحاصل أنه إذا وصل إلی حد الرکوع قبل أن یخرج الإمام من حد الرکوع ، فقد أدرک معه الرکعة ، وإلا فلا ، کما یفیده أثر ابن عمر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولفظه إذا أدرکت الإمام راکعًا فرکعت قبل أن یرفع رأسه فقد أدرکت الرکعة ، وإن رفع قبل أن ترکع فقد فاتتک الرکعة ۔

(ص/۴۵۵ ، کتاب الصلاة ، باب إدراک الفریضة)

ما فی ” حلبی کبیر “ : والشرط المشارکة فی جزء واحد کما لو رکع الإمام أولا ، وشارکه المقتدی فی آخر جزء منه ، أو رکع علی اثر إمامه ثم دفع قبله حیث یجوز اتفاقًا ۔

(ص/۲۸۱ ، الرابع الرکوع)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو اقتدی بإمام راکع فوقف حتی رفع الإمام رأسه لم یدرک الموٴتم الرکعة ، لأن المشارکة فی جزء من الرکن شرط ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة : قال الشامی رحمه الله تعالی : وکذا لو لم یقف بل انحط فرفع الإمام قبل رکوعه لا یصیر مدرکاً لهذه الرکعة مع الإمام ۔

(۴۵۱/۲ ، کتاب الصلاة، مطلب هل الإساء ة دون الکراهة الخ ، نصب الرایة للزیلعی :۱۶۱/۲، الفتاوی التاتارخانیة:۳۴۹/۱)

(کتاب الفتاوی: ۱۷۸/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔