ایام قربانی گذرگئے اور قربانی نہ کرسکا

مسئلہ:

کسی شخص پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے تین دن گذر گئے، اور اس نے قربانی نہیں کی، تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کردے، اور اگر قربانی کا جانور خرید لیا، اور کسی وجہ سے قربانی نہ کرسکا، تو زندہ جانور صدقہ کردے، اور اس کا گوشت خود نہ کھائے، کیوں کہ اب واجب، قربانی سے تصدق کی طرف منتقل ہوچکا ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “ : إذا أوجب شاة بعینها أو اشتراها لیضحی بها ، فمضت أیام النحر قبل أن یذبحها تصدق بها حیة، ولا یأکل من لحمها، لأنه انتقل الواجب من إراقة الدم إلی التصدق، وإن لم یوجب ولم یشتر وهو موسر وقد مضت أیامها تصدق بقیمة شاة تجزی للأضحیة۔(۳۸۹/۹، کتاب الأضحیة)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وقد اشتری شاة بنیة الأضحیة فلم یفعل حتی مضت أیام النحر تصدق بها حیةً، وإن کان من لم یضح غنیاً ولم یوجب علی نفسه شاة بعینها تصدق بقیمة شاة اشتری أو لم یشتر، کذا فی العتابیة۔ (۲۹۶/۵، کتاب الأضحیة، الباب الرابع ، بدائع الصنائع: ۲۰۲/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔