ایصالِ ثواب کے لیے بنوائی گئی مسجد میں پتھر پر نام کندہ کروانا

مسئلہ:

ایصالِ ثواب کیلئے مسجد بنوادینا اور اس نیت سے پتھر پر مرحوم کا نام کھدواکر لگانا کہ دوسروں کو بھی اس قسم کے کاموں کی رغبت ہو، یا کوئی شخص اس پتھر کو دیکھ کر میت کیلئے خصوصیت سے ایصالِ ثواب کرے، درست ہے،(۱) اور اگر اس عمل سے شہرت وناموری مقصود ہو تو درست نہیں ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الأشباه والنظائر “ : الأمور بمقاصدها۔ (۱۱۳/۱)

(۲) ما فی ” عمدة القاری “ : ” من بنی لله مسجداً بنی الله مثله فی الجنة “ إلی قوله: والمراد بوجه الله ذات الله، وابتغاء وجه الله فی العمل هو الإخلاص، وهو أن تکون نیته فی ذلک طلب مرضاة الله تعالی من دون ریاء وسمعة حتی قال ابن الجوزی: من کتب اسمه علی المسجد الذی یبنیه کان بعیداً من الإخلاص۔

(۳۱۴/۴، کتاب الصلاة، باب من بنی مسجداً، فتح الباری: ۷۰۶/۱، کتاب الصلوٰة، باب من بنی مسجداً)

 (فتاوی محمودیه: ۳۹۹/۲۱)

اوپر تک سکرول کریں۔