ایک جانور چھوڑ کر دوسرا جانور لیا

مسئلہ:

اگر جانور کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹادیا گیا، اور ذبح کرنے والے نے ذبح کرنے کے لیے چھری لے کر ” بسم اللہ ، اللہ اکبر“ بھی پڑھ لیا، پھر اُس جانور کو چھوڑ کر دوسرے جانور کو لٹایا گیا، اور ذبح کرنے والے نے پہلے تسمیہ یعنی ” بسم اللہ “ کو کافی سمجھتے ہوئے ، دوبارہ ”بسم اللہ، اللہ اکبر“ نہ پڑھا،اور ذبح کردیا، تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” بدائع الصنائع “ : وعلی هذا یخرج ما روی بشر عن أبي یوسف رحمهما الله تعالی أنه قال: لو أن رجلا أضجع شاةً لیذبحها وسمی، ثم بدا له فأرسلها وأضجع أخری فذبحها بتلک التسمیة لم یجزه ذلک، ولم تؤکل لعدم التسمیة علی الذبیحة عند الذبح۔

(۲۴۶/۶، کتاب الذبائح والصیود، فصل في شرط حل الأکل في الحیوان المأکول، أما وقت التسمیة)

ما فی ” المبسوط للسرخسی “ : وهنا الشرط التسمیة علی الذبح دون السکین، وفعل الذبح یختلف باختلاف المذبوح لا باختلاف السکین فوزان هذا من ذلک أن لو ترک تلک الشاة وذبح أخری بتلک التسمیة۔ (۶/۱۲، کتاب الذبائح)

ما فی ” تبیین الحقائق “ : حتی لو أضجع شاة وسمی ثم ترکها وذبح غیرها بالسکین الذي کان معه ولم یسم علیها لا یحلّ۔

(۴۵۳/۶، کتاب الذبائح، البحر الرائق:۳۰۷/۸، کتاب الذبائح)

اوپر تک سکرول کریں۔