ایک شخص کا کئی لوگوں کی طرف سے حج بدل کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ متعدد لوگوں سے حجِ بدل کی رقم وصول کرتے ہیں اور سب کی طرف سے ایک ہی حج بدل کرتے ہیں، کسی ایک کی جانب سے حج کی نیت نہیں کرتے، اس صورت میں امام ابویوسف ؒیہ فرماتے ہیں کہ یہ حج خود اس کی طرف سے ہوگا اور تمام موکلین کی رقم واپس کرنالازم ہوگا،اور طرفین کا قول ہے کہ اگر افعالِ حج کی ادائیگی شروع کرنے سے پہلے کسی ایک کی نیت کر لے تو یہ حج اسی کی طرف سے ہو گا ،اور بقیہ مؤکلین کی رقم واپس کر نی ہو گی اورطرفین کا قول ہی مفتی بہ ہے ۔اگر کسی کی بھی طرف سے نیت نہیں کی تو خود اسکی طرف سے ادا ہوگااورتمام مؤکلین کو ان کی رقم واپس کرنا واجب ہو گا ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’المبسوط للسرخسي‘‘: رجل أمره رجلان أن یحج عن کل واحد منهما فأهل بحجة عن أحدهما لا ینوي عن واحد منهما، قال له أن یصرفه إلی أیهما شاء في قول أبي حنیفة ومحمد رحمهما الله، وقال أبو یوسف رحمه الله: أری ذلک عن نفسه وهو ضامن لنفقتهما ۔

(۱۷۷/۴،کتاب المناسک ، مجمع الأنهر في ملتقی الأبحر:۴۵۷/۱، الفتاوی الهندیة: ۲۵۷/۱، مجمع البحرین وملتقی النیرین: ص۲۳۳، في الحج عن الغیر، ردالمحتار علی الدرالمختار:۲۷/۴)

ما في ’’شرح عقود رسم المفتي‘‘: قال العلامة ابن عابدین فی شرح عقود رسم المفتي: قال الإمام قاضیخان: وإن کانت المسئلة مختلفا فیها بین أصحابنا فإن کان مع أبي حنیفة أحد صاحبیه یأخذ بقولهما أي بقول الإمام ومن وافقه لوفور الشرط واستجماع أدلة الصواب فیها ۔ (ص۲۵)

اوپر تک سکرول کریں۔