ایک وقف کی آمدنی کا استعمال دوسرے وقف میں

مسئلہ:

ہر وقف الگ ہوتا ہے، مسجد کا وقف علیحدہ، قبرستان کا وقف علیحدہ اور مدرسہ کا وقف علیحدہ ہے، حتی کہ ہر مسجد کا وقف بھی علیحدہ ہوتا ہے، اور ایک وقف کی آمدنی یا زمین دوسرے وقف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے مسجد کی جگہ پر مدرسہ یا اسکول کی تعمیر جائز نہیں، البتہ اگر مسجد کی جگہ خالی ہو، اور مسجد کی ضرورت سے زائد ہو، تو یہ تدبیر کی جاسکتی ہے کہ مسجد کی رقم سے تعمیری کام کرکے عمارت، مدرسہ یا اسکول کو کرایہ پر دیدی جائے، اور کرایہ کی رقم مسجد کے مصارف میں استعمال کی جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : اتحد الواقف والجهة وقلّ مرسوم بعض الموقوف علیه بسبب خراب وقف أحدهما جاز للحاکم أن یصرف من فاضل الآخر علیه، لأنهما حینئذ کشيء واحد، وإن اختلف أحدهما بأن بنی رجلان مسجدین أو رجل مسجدًا ومدرسة ووقف علیهما أوقافًا لا یجوز له ذلک۔

(۵۵۱/۶، کتاب الوقف، مطلب في نقل أنقاض المسجد ونحوه)

ما في ” البحر الرائق “ : أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلف الجهة بأن بنی مدرسة ومسجدًا وعین لکل وقفًا وفضل من غلة أحدهما لا یبدل شرط الواقف، وکذا إذا اختلف الواقف لا الجهة یتبع شرط الواقف وقد علم بهذا التقریر اعمال الغلتین إحیاء للوقف ورعایة شرط الواقف، هذا هو الحاصل من الفتاوی۔

(۳۶۲/۶، کتاب الوقف ، الفقه الإسلامی وأدلته:۷۶۷۴/۱۰، الباب الخامس الوقف، الفصل الثامن استبدال الوقف وبیعه حالة الخراب)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۳۰۶۵۴)

اوپر تک سکرول کریں۔