مسئلہ:
اگر بھیڑ ، بکری ، دنبی وغیرہ کے ایک تھن سے دودھ نہ اتر تا ہو، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، کیوں کہ ایک تھن سے دودھ نہ اتر نا بھیڑ، بکری، دنبی وغیرہ میں عیب ہے، اور عیب دار جانور کی قربانی کرنے سے قربانی درست نہیں ہوتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الشامیة “ : قال الشامی تحت قوله: (وهی التی عولجت) فاقطع اللبن عن إحدی ضرعیها۔ (۳۹۳/۹، کتاب الأضحیة)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : والشطور لا تجزی ، وهی من الشاة ما قطع اللبن عن إحدی ضرعیها۔
(۲۹۹/۵، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، الموسوعة الفقهیة: ۸۳/۵، الفقه الإسلامی وأدلته: ۲۷۲۷/۴، البحر الرائق: ۳۲۳/۸، کتاب الأضحیة)
(فتاوی محمودیه: ۳۸۰/۱۷)
