اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی

مسئلہ:

آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاوٴنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵/ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵/ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٴ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٴ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاوٴنٹ میں ڈالدے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : إن الدیون تقضی بأمثالها علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض، لأن قبضه بنفسه علی وجه التملک، ولرب الدین علی المدیون مثله۔ (۶۷۵/۵)

ما في ” بحوث في قضایا فقهیة معاصرة “ : القرض یجب في الشریعة الإسلامیة أن تقضی بأمثالها ۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنة، ومشاهدة معاملات الناس أن المثلیة المطلوبة في القرض هي المثلیة في المقدار والکمیة، دون المثلیة في القیمة والمالیة۔ (ص:۱۷۴)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والقرض هو أن یقرض الدراهم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثله في ثاني الحال۔ (۳۶۶/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔