بارش میں پرنالہ کے پانی کا حکم شرعی

مسئلہ:

اگر کوئی شخص بارش کا پانی پرنالہ کے ذریعہ کسی برتن وغیرہ میں روک کر ذخیرہ کرلے، اور اس میں کوئی نجاست نہ ہو تو وہ پانی پاک ہے، اس سے وضو اور غسل کرنا درست ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : قوله: (ولو شک) فی التاترخانیة: من شک فی إنائه أو ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا، فهو طاهر ما لم یستیقن، وکذا الآبار والحیاض والحباب الموضوعة فی الطرقات، ویستقی منها الصغار والکبار، والمسلمون والکفار۔

(۲۸۳/۱۔۲۸۴، مطلب فی ندب مراعاة الخلاف إذا لم یرتکب مکروه مذهبه، قبیل مطلب فی أبحاث الغسل، الفتاوی التاتارخانیة:۷۹/۱، نوع آخر فی مسائل الشک، مکتبة دارالایمان سهارنفور)

(فتاوی محمودیه : ۱۲۸/۵۔۱۲۹)

اوپر تک سکرول کریں۔