مسئلہ:
ختنہ شعائر اسلام اور اس کے خصائص میں سے ہے، مسلم کے لیے اس کی اتنی اہمیت نہیں جتنی نومسلم کے لیے ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان بچہ ہو تو اس کی ختنہ کا حکم ہے، لیکن جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کی ختنہ کا حکم نہیں ہے، کیوں کہ ختنہ سنت ہے، اور سترِ عورت فرض ہے، اور قاعدہ ہے کہ سنت کی خاطر فرض کو ترک نہیں کیا جاسکتا(۱)، بخلاف کافر کے ، اگر بالغ کافر مسلمان ہوجائے تو بالاتفاق اس کی ختنہ کا حکم ہے، اس لیے کہ سترِ عورت کے مقابلے میں اس کی ختنہ زیادہ اہمیت رکھتی ہے، چوں کہ کافر بالغ ہونے کے باوجود دینِ اسلام کی مخالفت کرتا رہا، اور اب مسلمان ہوکر اس کی مخالفت کو ترک کرنا چاہتا ہے، تو پوری طرح ترکِ مخالفت اُسی وقت ہوگی جب خلافِ اسلام کوئی ظاہری علامت بھی اس میں باقی نہ رہے(۲)، نیز ختنہ اس کی صداقت اور استقامت کی دلیل اور اسلام پر ثابت قدم رہنے میں مفید ومعین ہے، اس لیے اس کی ختنہ کرانی ضروری ہے، البتہ اس صورت میں ضروری ہے کہ ختنہ کا مخصوص مقام ہی کھولا جائے، اس کے علاوہ نہیں(۳)، اور ختنہ کرنے والا جہاں تک ممکن ہو نظر وہاتھ بچا کر کام کرے، ہاں! اگر نو مسلم بے حد ضعیف وکمزور ہو اور ختنہ کی تاب نہ لا سکے تو پھر ختنہ لازم نہیں ۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الأشباه والنظائر للسیوطي “ : الواجب لا یترک إلا لواجب، وعبر عنها قوم بقولهم: ” الواجب لا یترک لسنة “ وقوم بقولهم: ” ما لا بد منه لا یترک إلا لما لا بدّ منه “۔ (۳۱۶/۱، القاعدة الثالثة والعشرون، الکتاب الثاني)
(۲) ما في ” مجموعة الفتاوی “ : وکافریکه مسلمان شده ختنه اش باید کرد، در خزانة الروایات مي أرد في الذخیرة أن المسلم یختن ما لم یبلغ، فإذا بلغ لم یختن، لأن ستر عورة البالغ فرض، والختان سنة، فلا یترک الفرض للسنة، والکافر إذا أسلم یختن بالاتفاق لمخالفته دین الإسلام وهو بالغ۔ (۹۶/۳، بحواله فتاوی رحیمیه:۱۳۴/۱۰)
(۳) ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : ما أبیح للضرورة یتقدر بقدرها۔(۳۰۸/۱، القاعدة الخامسة؛ الضرر یزال)
ما في ” قواعد الفقه “ : الضرورات تقدر بقدرها۔ (ص:۸۹، رقم القاعدة:۱۷۱)
(۴)ما في ” فتاوی قاضیخان “ :وکذا المجوسي إذا أسلم وهو شیخ ضعیف أخبر أهل البصرأنه لایطیق الختان یترک۔(۳۶۸/۴،کتاب الحظر والإباحة،فصل في الختان)
ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ :ویختتن الکافر إذا أسلم وجوبًا بشرط کونه مکلفًا،وألا یخاف علی نفسه منه۔ (۵۳۲/۱،الفصل الخامس، الغسل،المطلب الرابع؛سنن الغسل)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : صبي حشفته ظاهرة بحیث لو رآه إنسان ظنه مختونا ولا تقطع جلدة ذکره إلا بتشدید ألمه ترک علی حاله کشیخ أسلم، وقال أهل النظر: لا یطیق الختان ترک أیضًا۔ (۳۹۸/۱۰، کتاب الخنثی، مسائل شتی)
(فتاوی رحیمیہ:۱۳۴/۱۰۔۱۳۵)
