بحالتِ قیام قدموں کے درمیان چار اُنگل کا فاصلہ

مسئلہ:

ہماری اِس مسجد (مسجد میمنی) کے نمازی اکثر علماء وطلباء ہیں، ہماری نماز کودیکھ کر باہر سے آنے والے مہمان اپنی نماز کو صحیح کرتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنی نماز سنت کے مطابق ادا کرنی چاہیے، بہت سے طلباء جب نماز میں کھڑے ہوتے ہیں، تو دونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں سے زائد فاصلہ رکھتے ہیں، اور بعض دونوں قدموں کو بالکل ملا کر کھڑے ہوتے ہیں، یہ دونوں حالتیں خلافِ سنت ہیں، سنت یہ ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے دونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں کے برابر فاصلہ رکھ کر کھڑے ہوں، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم، طلباء عزیز اس پر خاص توجہ فرمائیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : وینبغي أن یکون بینهما مقدار أربع أصابع الید، لأنه أقرب إلی الخشوع، هکذا روي عن أبي نصر الدبوسي أنه کان یفعله ۔ کذا في الکبری ۔

(۱۳۱/۲، باب صفة الصلاة)

ما في ” اعلاء السنن “ : ففیه دلیل علی کراهة ضم القدمین في الصلاة حال القیام أیضًا،بل یسنّ تفریجهما، وقدره فقهاؤنا بقدر أربع أصابع،لأنه أقرب إلی الخشوع کما في مراقي الفلاح۔(۱۶۲/۵، باب کراهة صف القدمین في الصلاة واستحباب التراویح بینهما الخ، مراقي الفلاح:ص/۹۵، کتاب الصلاة، فصل في سننها، حاشیة الطحطاوي:ص/۲۶۲)

(فتاویٰ محمودیہ:۲۹۸/۹)

اوپر تک سکرول کریں۔